القدس عالمی فاؤنڈیشن نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسرائیل نے مسجد اقصی کے نیچے سینتالیس چھوٹی بڑی سرنگیں کھود لی ہیں جن کی وجہ سے قبلہ اول شدید خطرے میں ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل مسجد کو تقسیم کرنے کے اقدامات بھی شروع کر چکا ہے۔
اگست سن 2011 سے لیکر اس سال کے رواں ماہ تک کے لیے القدس فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے مسجد اقصی کے خلاف تین اطراف سے محاذ کھول رکھا ہے۔ سب سے پہلے وہ مسجد اقصی کو یہودی رنگ میں رنگنے اور یہودی مقدس مقام شمار کروانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ دوسرے نمبر پر اس نے مسجد اقصی کے نیچے اور اسکے اطراف بڑے پیمانے پر کھدائیوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے تاکہ کھدائیوں کی وجہ سے کمزور ہوتی بنیادیں مسجد کو سنبھال نہ سکیں۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیل نے مسجد اقصی میں یہودیوں کے داخلے اور یہاں کے انتظامی معاملات میں اس کی بلا روک ٹوک شرکت یقینی بنانے کے اقدامات شروع کر رکھے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مسجد اقصی کے معاملے میں یہودی طرز فکر میں تین اطراف سے پیش رفت ہوئی ہے۔ سیاسی محاذ مسجد اقصی کو یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم کرنے کی بھرپور کوششیں شروع کردی ہیں۔ اس ضمن میں نیشنل یونین پارٹی کے ایک رکن پارلیمان ارے الداد نے اسمبلی میں ایک مسودہ بل جمع کروا دیا ہے جس میں مسجد اقصی کو مسلمانوں اور یہودیوں میں تقسیم کرنے کا کہا گیا ہے۔ اسی سے ملتا جلتا ایک بل لیکود پارٹی کے رکن کنیسٹ نے جمع کروایا ہے جس میں زمانی طور پر مسجد کو یہودیوں اور مسلمانوں میں تقسیم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس بل کے مطابق خاص یہودی تہواروں کے موقع پر مسلمانوں کے مسجد اقصی میں داخلے پر پابندی عائد کردینی چاہیے۔
مذہبی محاذ پر یہودی ربیوں نے مسجد اقصی پر حملوں کی ترغیب تیز کردی ہے۔ ان انتہاء پسند یہودی مذہبی پیشواؤں کےاعلانات کے بعد آئے روز یہودی مسلمانوں کے قبلہ اول میں داخل ہو کر اس کی بے حرمتی کر رہے ہیں۔ اسرائیل مسجد اقصی کو یہودیوں کے مذہبی مقدس مقام کہلوانا چاہتا ہے۔
رپورٹ کے آخر میں مسلمانوں کی تیسری مقدس ترین مسجد کے تحفظ کے لیے تجاویز دی گئی ہیں، القدس فاؤنڈیشن نے زور دیا ہے کہ مسجد اقصی کے تحفظ اور اس کو اسرائیلی ریشہ دوانیوں سے بچانے کے لیے فوری طور پر عالمگیر تحریک شروع کرنا ہوگی۔ عرب اور اسلامی دنیا کی حکومتوں کو اپنے قبلہ اول کی حفاظت کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دینا چاہیے۔
رپورٹ میں فلسطینی مزاحمت تنظیموں سے بھی اسرائیل کے خلاف کمر کسنے کی اپیل کی گئی ہے۔ فاؤنڈیشن نے فلسطین بھر کی تمام تنظیموں اور جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ اپنے تیسرے مقدس ترین مقام کے تحفظ کے لیے ان تمام تنظیموں کو آپس کے اختلافات بھلا کر متحد ہونا ہوگا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
