اسلامی مسیحی کمیشن برائے تحفظ القدس و مقدسات نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل نے مشرقی القدس میں 450 گھروں کو منہدم کرنے کے فیصلے پر عمل درآمد کا عزم کر رکھا ہے۔ کمیشن نے کہا کہ صہیونی حکومت 1967ء میں مشرقی القدس پر قبضے کے بعد سے یہاں پر 25 ہزار گھروں کو منہدم کر چکی ہے۔
اسرائیلی حکومت سال 2013ء کے شروع سے لیکر اب تک مقبوضہ بیت المقدس میں چالیس گھر مسمار کرکے 300 فلسطینیوں کو بے گھر کر چکی ہے، ہجرت پر مجبور کیے گئے ان شہریوں میں 200 بچے بھی شامل تھے۔
اسلامی مسیحی کمیشن نے بتایا کہ صہیونی اتھارٹیز اور تمام اسرائیلی حکومتوں کا بنیادی ہدف اس مقدس شہر کو اس کے اصلی باشندگان سے خالی کروانا اور ان کی جگہ پر انتہاء پسند یہودیوں کو بسانا ہے۔ یہ سب کارروائیاں مسجد اقصی کے اطراف پھیلے اس بابرکت شہر کی تاریخ، ثفافت اور تاریخی آثار کو مسخ کرنے کے لیے کیا جارہا ہے کیونکہ اسرائیل مشرقی القدس اور مغربی القدس کو ملاکر متحدہ القدس کو ہر صورت اپنی یہودی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتا ہے۔
کمیشن نے کہا کہ القدس میں 450 گھروں کی مسماری کا اسرائیلی عزم ایک نیا قتل عام تصور ہوگا۔ یہ پورے القدس پر قبضے کے اسرائیلی منصوبے کے حوالے سے بڑا اقدام ہوگا۔ اسلامی مسیحی کمیشن نے ساڑھے چار سو گھرانوں کو ہجرت پر مجبور کرنے کے اقدام کو انتہائی ظالمانہ قرار دیا۔
کمیشن کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حنا عیسی نے کہا کہ فلسطینیوں کے گھروں کو منہدم کرنا اسرائیل کے غیر انسانی رویے کا بڑا مظہر ہے۔ انسانوں کو اجتماعی سزا دینا اور فلسطینی اراضی پر قبضہ کرنا اسرائیل کی سرشت میں شامل ہے جس کا مظاہرہ وہ 1967ء سے مسلسل کرتا چلا آرہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی حکومت سکیورٹی انتظامات، بغیر اجازت تعمیر اور سیاسی مخالفت کی بنیادوں پر فلسطینیوں کے گھروں پر قبضہ کررہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی فلسطینیوں کے گھروں کو منہدم کرنے کے لیے سن 1945ء کے برٹس ایمرجنسی لاء کے آرٹیکل 119 کی شق نمبر 1 کا حوالہ دیتا ہے۔ حالانکہ وہ بخوبی جانتا ہے کہ یہ قانون فلسطین پر برطانوی مینڈیٹ کے خاتمے کے ساتھ ہی ختم ہوچکا ہے
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
