اسرائیل کی ایک فوجی عدالت نے زیرحراست فلسطینی طالب علم 27 سالہ بلال محمد عواد کو 44 ماہ قید اور 3000 شیکل جرمانہ کی سزا سنائی ہے۔ اسیر کا تعلق مغربی کنارے کے شہر نابلس سے بتایا جاتا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق "سالم” نامی صہیونی فوجی عدالت نے منگل کے روز فلسطینی طالب کے مقدمہ کی سماعت کے بعد اسے چولیس ماہ قید بامشقت اور تین ہزار شیکل جرمانہ کی سزا سنائی۔ بلا محمد عواد پر جنوبی نابلس میں حوارہ کے مقام پر جولائی 2013ء میں یہودی آباد کاروں کی ایک بس پر فائرنگ کا الزام عاید کیا گیا ہے۔ اس کارروائی میں ایک دوسرے فلسطینی نوجوان اشرف عواد کو سات سال قید اور 5000 شیکل جرمانہ کی سزا پہلے ہی سنائی جا چکی ہے۔
بلال عواد کو 25 جولائی 2013ء کو صہیونی فوج نے گرفتار کیا۔ اس وقت وہ النجاح نیشنل یونیورسٹی میں گریجوایشن کے آخری سیشن میں زیرتعلیم تھا۔ گرفتار کرنے کے بعد اسے "مجد” جیل میں ڈالا گیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
