مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق رام اللہ میں تنظیم کی جانب سے میڈیا کوجاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ امن مذاکرات کے آغاز سے فلسطینیوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری کا عمل تیز کر دیا گیا اور امدادی کارروائیوں کی راہ میں بھی رکاوٹیں کھڑی کی جاتی رہی ہیں۔ اس سلسلے میں وادی اردن سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ ہے جہاں اسرائیلی فوجی فلسطینی خاندانوں کو ریڈ کراس کے دیے گئے خیمے بھی چھین لیتی ہے۔
بیان میں فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری اور امدادی سرگرمیوں کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے پر اسرائیل کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ اسرائیل کسی بھی غیرملکی یا مقامی امداد ادارے کو مکانات سے محروم شہریوں کی مدد کی اجازت دینے سے روک رہا ہے، جس کے نتیجے میں شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو چکا ہے۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ جولائی 2013ء سے اکتیس دسمبر2013ء کے دوران صہیونی فوج نے فلسطینیوں کے 286 مکانات مسمار کیے جس کے نتیجے میں 452 افراد بے گھر ہوئے جبکہ سنہ 2012ء کے دوران اسی عرصے میں فلسطینیوں کے 200 مکانات مسمار کیےتھے جن سے 260 افراد بے گھر ہو گئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی طورپر 2013ء میں فلسطینیوں کے 390 مکانات مسمار کیے گئے جبکہ اس سے پچھلے سال 279 مکانات مسمار کیے گئے تھے۔
