مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں سیاسی اسیران کی رہائی کے لیے قائم کردہ کمیٹی کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پچھلے ماہ مئی میں عباس ملیشیا نے کریک ڈائون کے دوران 164 فلسطینی سیاسی کارکنوں کو گرفتار کرکے حراستی مراکز میں منتقل کیا۔ان میں سے 122 شہری عباس ملیشیا کی ڈیفنس فورس کے ہاتھوں گرفتار کیے گئے جب کہ 38 کو جنرل انٹیلی جنس حکام نے حراست میں لیا۔ دیگر چار شہریوں کی گرفتاری کا ذریعہ معلوم نہیں ہوسکا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عباس ملیشیا کے ہاتھوں گرفتار ہونے والوں میں 12 اساتذہ، تین آئمہ مساجد، پانچ صحافی، جامعات کے 65 طلباء، ایک وکیل، ایک اسکول کا پرنسپل اور ایک انجینیر شامل ہیں۔
مئی کے دوران جہاں عباس ملیشیا کی جانب سے ڈیڑھ سو سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا وہیں 175 شہریوں کو خود کو حکام کے حوالے کرنے کے نوٹس جاری کیے گئے۔ ان میں سے بیشتر سیاسی جماعتوں کے کارکن ہیں۔ ان میں سے 80 کو عباس ملیشیا کے انٹیلی جنس حکام نے طلب کیا جب کہ 95 کو ڈیفنس فورس کے مراکز میں بلایا گیا۔ سیکیورٹی مراکز میں طلب کیے گئے شہریوں میں سات صحافی، جامعات کے 28 طلباء، پانچ اساتذہ اور دو وکلاء شامل ہیں۔ 28 کارکنوں کا تعلق سیاسی جماعتوں سے ہے۔ گرفتار کیے گئے شہریوں میں سے 52 کو عدالتوں میں پیش کیا گیا۔ان میں سے چھ شہریوں کی املاک بھی ضبط کی گئیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
