رپورٹ کے مطابق تنظیم آزادی فلسطین کے زیرانتظام مزاحمت برائے دیوار فاصل و یہودی آباد کاری کمیٹی کے چیئرمین ولید عساف نے بتایا کہ رواں سال اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری کی کارروائیوں میں 400 فی صد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی ’’اناطولیہ‘‘ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قابض اسرائیلی حکام روز مرہ کی بنیاد پر فلسطینیوں کے مکانات مسمار کررہے ہیں۔ مکانات مسماری کا مقصد فلسطینیوں کو ان کی اراضی اور املاک سے محروم کرتے ہوئے یہودی آباد کاری کے لیے مزید مواقع پیدا کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ غرب اردن اور بیت المقدس میں فلسطینیوں کے مکانات اور دیگر املاک کی مسماری کا سلسلہ سنہ 1967 ء کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ کے بعد سے جاری ہے۔ اسرائیلی حکومت کی فلسطینیوں کی املاک مسماری کی پالیسی کے نتیجے میں فلسطینی شہریوں کا بھاری اقتصادی نقصان ہوا ہے اور بڑی تعداد میں فلسطینی شہری گھروں کی چھت سے محروم کردیے تھے ہیں۔
ولید عساف کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی فلسطینیوں کے مکانات مسماری کی ظالمانہ پالیسی عالمی قوانین کے ساتھ کھلا مذاق ہے۔ ادھر آج منگل کو اسرائیلی فوجیوں نے غرب اردن میں فلسطینی شہریوں کے تین مکانات اور ایک بچوں کا اسکول مسمار کردیا۔
