فلسطینی وزیراعظم اور امیرقطر شیخ حمد بن جاثم آل ثانی کےدرمیان محصور شہرغزہ کی پٹی کی تعمیر نوکے لیے معاہدے پردستخط ہوگئے ہیں۔ امیر قطرنے جنگ سے تباہ حال شہرکی تعمیرنو کا بجٹ چالیس کروڑ ڈالرز تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔
تعمیر نوکے لیے یہ رقم آئندہ چند ماہ کے دوران فراہم کردی جائے گی۔ مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق امیرقطر شیخ حمد جاثم آل ثانی کے دورہ غزہ کے موقع پرصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ قطری حکومت کی جانب سے سابقہ معاہدے میں غزہ کی تعمیر نوکے لیے 254 ملین ڈالرز کی رقم مختص کی گئی تھی تاہم اب امیر قطرنے اس میں 151 ملین ڈالرز کا مزید اضافہ کیا ہے۔ یوں یہ رقم اب چارسو ملین ڈالرز تک پہنچ جائے گی۔
اسماعیل ھنیہ نے بتایا کہ غزہ شہرمیں خان یونس کے مقام پرشیخ حمد کے نام سے ایک نیا شہر تعمیرکیا جا رہا ہے، جس کے تمام اخراجات دوحہ حکومت برداشت کرے گی۔ اس منصوبے پر پہلے مرحلے میں 30 سے 45 ملین ڈالرز کی رقم خرچ ہوگی۔ بعد ازاں ضرورت کے مطابق مزید رقم بھی فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ شیخ حمد سٹی کو تین مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔ منصوبے کے تحت خان یونس میں ایک ہزار رہائشی فلیٹس تعمیر کیے جائیں گے، جن پر مزید نوے ملین ڈالرز کی رقم خرچ ہوگی۔
شیخ حمد بن جاثم نے اپنے تاریخی دورہ غزہ کے دوران شہر کے اسپتالوں کے لیے بھی اضافی بجٹ کی فراہمی کا اعلان کیا ہے۔ غزہ کے شمال میں ایک صنعتی مرکز کے قیام پر15 ملین ڈالرز کی رقم خرچ کی جائے گی۔
اسماعیل ھنیہ کا کہنا تھا کہ شیخ حمد بن جاثم نے غزہ میں ایک سو ایکڑ اراضی پر اسرائیلی جیلوں سے رہائی پانے والے فلسطینیوں کے لیے الگ سے مکانات تعمیر کیے جائیں گے جن پر25 ملین ڈالرز کی رقم کا بجٹ صرف کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ امیر قطر شیخ حمد بن جاثم نے کل منگل کو فلسطینی شہرغزہ کی پٹی کا دورہ کیا۔ ان کے ہمراہ ان کی اہلیہ شیخہ موزہ اور حکومت کا ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی شامل تھا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
