• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

اسرائیلی عقوبت خانوں میں 391 فلسطینی بغیر کسی الزام کے مسلسل زیرحراست

پیر 27-07-2015
in فلسطین
0
plf 391
0
SHARES
0
VIEWS

اسرائیلی فوج کی جانب سے محض شبے کی بنیاد پر بغیر کسی الزام کے گرفتار کیے گئے 391 فلسطینیوں کو بدستور جیلوں میں پابند سلاسل رکھا گیا ہے۔ انتظامی حراست کی پالیسی کے تحت پابند سلاسل رکھے گئے فلسطینیوں کی تعداد پچھلے ایک سال میں دوگنا سے تجاوز کرگئی ہے۔

اسرائیل کے عبرانی اخبار”ہارٹز” کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ  پچھلے سال جون میں مغربی کنارے کے الخلیل شہر میں تین یہودی آباد کاروں کے لاپتا ہونے کے بعد فوج اور پولیس نے بڑی تعداد میں فلسطینیوں کو گرفتار کرنا شروع کیا تھا۔ ان میں سے بہت زیادہ وہ فلسطینی تھے جنہیں محض مزاحمت کے شبے میں حراست میں لیا گیا۔ انہیں پراسیکیوٹر جنرل کی عدالت میں پیش کیا گیا اور انتظامی حراست می سزائیں دلوائی گئی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے نہ صرف چار سوکے قریب فلسطینیوں کو انتظامی حراست میں ڈال رکھا ہے بلکہ ہرچار یا چھ ماہ بعد ان کی قید میں اتنے ہی عرصے کی توسیع کردی جاتی ہے۔ ان میں کچھ ایسے بھی قید ہیں جو پچھلے تین سال سے مسلسل انتظامی حراست میں ہیں۔ ان فلسطینیوں کو اپنی حراست کے خلاف کسی اسرائیلی عدالت میں درخواست دینے کی اجازت نہیں جب کہ اسرائیلی فوج کو ان کی سزائوں میں توسیع کے لیے باربار پراسیکیوٹر کو درخواست دینے کا حق دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انتظامی حراست کا سلسلہ سنہ 2003 ء سے شروع ہوا۔ 2003 ء میں ایک ہزار فلسطینیوں کو گرفتار کرکے انتظامی قید میں ڈلا گیا۔ تاہم سنہ 2014 ء میں یہ تعداد کم ہوکر 134 تک آگئی تھی۔ گذشتہ برس غرب اردن سے تین یہودی آباد کاروں کے لاپتا ہونے کے بعد قابض فوج نے تلاشی کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا اور مزید 196 فلسطینیوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ محروسین میں اکثریت اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” سے وابستہ کارکنوں کی تھی۔ گرفتاریوں کا سلسلہ مزید بڑھایا گیا اور رواں سال کے آغاز میں انتظامی قیدیوں کی تعداد 473 ء تک جا پہنچی تھی۔ تاہم مئی کے بعد کچھ فلسطینیوں کی رہائی عمل میں لائی گئی جس کے بعد اب بھی 391 فلسطینی بدستور بغیر کسی الزام اور مقدمہ کے پابند سلاسل ہیں۔

 

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.