اسرائیل کے عبرانی اخبار”ہارٹز” کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پچھلے سال جون میں مغربی کنارے کے الخلیل شہر میں تین یہودی آباد کاروں کے لاپتا ہونے کے بعد فوج اور پولیس نے بڑی تعداد میں فلسطینیوں کو گرفتار کرنا شروع کیا تھا۔ ان میں سے بہت زیادہ وہ فلسطینی تھے جنہیں محض مزاحمت کے شبے میں حراست میں لیا گیا۔ انہیں پراسیکیوٹر جنرل کی عدالت میں پیش کیا گیا اور انتظامی حراست می سزائیں دلوائی گئی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے نہ صرف چار سوکے قریب فلسطینیوں کو انتظامی حراست میں ڈال رکھا ہے بلکہ ہرچار یا چھ ماہ بعد ان کی قید میں اتنے ہی عرصے کی توسیع کردی جاتی ہے۔ ان میں کچھ ایسے بھی قید ہیں جو پچھلے تین سال سے مسلسل انتظامی حراست میں ہیں۔ ان فلسطینیوں کو اپنی حراست کے خلاف کسی اسرائیلی عدالت میں درخواست دینے کی اجازت نہیں جب کہ اسرائیلی فوج کو ان کی سزائوں میں توسیع کے لیے باربار پراسیکیوٹر کو درخواست دینے کا حق دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انتظامی حراست کا سلسلہ سنہ 2003 ء سے شروع ہوا۔ 2003 ء میں ایک ہزار فلسطینیوں کو گرفتار کرکے انتظامی قید میں ڈلا گیا۔ تاہم سنہ 2014 ء میں یہ تعداد کم ہوکر 134 تک آگئی تھی۔ گذشتہ برس غرب اردن سے تین یہودی آباد کاروں کے لاپتا ہونے کے بعد قابض فوج نے تلاشی کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا اور مزید 196 فلسطینیوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ محروسین میں اکثریت اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” سے وابستہ کارکنوں کی تھی۔ گرفتاریوں کا سلسلہ مزید بڑھایا گیا اور رواں سال کے آغاز میں انتظامی قیدیوں کی تعداد 473 ء تک جا پہنچی تھی۔ تاہم مئی کے بعد کچھ فلسطینیوں کی رہائی عمل میں لائی گئی جس کے بعد اب بھی 391 فلسطینی بدستور بغیر کسی الزام اور مقدمہ کے پابند سلاسل ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
