اسرائیلی پارلیمان کے عرب رکن طلب الصانع نے فلسطینیوں سے اپیل کی ہے کہ یوم نکبہ کے بعد فلسطینی اراضی پر قبضے کے سب سے بڑے اسرائیلی منصوبے کیخلاف بھرپور مزاحمت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ آٹھ لاکھ ایکڑ اراضی پر قبضے اور 35 ہزار فلسطینیوں کو ہجرت پر مجبور کرنے کے اس منصوبے پر خاموش نہیں رہا جا سکتا۔
عرب ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے طلب الصانع نے کہا کہ دوسری بار منتخب ہونے کے بعد وزیر اعظم نیتن یاھو کی سربراہی میں ہونے والے پہلے ہی اجلاس میں اس منصوبے پر بحث اتفاقا نہیں بلکہ پوری منصوبہ بندی کے ساتھ کی گئی۔ نئے اسرائیلی اراکین پارلیمان نے ایران کی جوہری تنصیبات ، لبنان کی صورتحال اور دیگر اہم ترین مسائل کو چھوڑ کر سب سے پہلے صحرائے نقب کے حوالے سے بنائے گئے ”پریفر” منصوبے پر غور کیا جس سے صہیونی حکومت کے جارحانہ عزائم کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس خطرناک صورتحال کا تقاضہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو مضبوط کریں اور متحد ہو کر نقب کے عربوں کی سپریم اسٹیرنگ کمیٹی کے ساتھ ملکر انکی مدد ونصرت کو بڑھائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اتنے بڑے پیمانے پر عربوں کے حقوق غصب کیے جانے کے اس منصوبے کو عرب لیگ اور عالمی تنظیموں تک لے جانا ہوگا۔ انہوں نے 1948 ء کے مقبوضہ فلسطین کے شہریوں سے اپیل کی کہ امریکا کے صدر باراک اوباما کے اسرائیل کے دورے کے دوران بھرپور احتجاج کیا جائے تاکہ عرب شہریوں کے خلاف اسرائیلی مظالم اور جارحانہ کارروائیوں کو منظر عام پر لایا جا سکے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
