مغربی کنارے میںتحریک فتح کے زیر انتظام فلسطینی اتھارٹی نے اپنے ہی ہم وطنوں کو سیاسی بنیادوں پر گرفتار کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے
، دیگر فلسطینی جماعتوں کے ساتھ قاھرہ اور دوحہ میں مفاہمتی معاہدوں میں سیاسی اسیران رہا کرنے کی حامی بھرنے کے باوجود اتھارٹی نے پینتیس افراد کو تاحال اپنے عقوبت خانوں میں رکھے ہوئے ہے۔ یہ سیاسی گرفتاریاں حماس اور فتح کے مابین مفاہمت کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنی رہی ہیں۔سیاسی اسیران کے اہل خانہ کی کمیٹی نے بتایا کہ مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کی عباس ملیشیا کے نام سے معروف سکیورٹی فورسز کی مختلف جیلوں میں اس وقت بھی 35 فلسطینی گرفتار ہیں جن میں سے دس سن 2011 سے بھی پہلے سے زیر حراست ہیں، ان گرفتار افراد کی مدت حراست ایک سے پانچ سال کے درمیان ہے۔اسیران کے اہل خانہ کی کمیٹی نے بتایا کہ گزشتہ چند روز کے دوران اگرچہ فلسطینی جماعتوں کے مابین کشیدگی کے حوالے سے حالات مثبت رہے مگر پھر بھی اتھارٹی نے دیگر جماعتوںکے حامیوںکی گرفتاریاں جاری رکھیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ گرفتار کیے جانے والو ں میں حماس اور جہاد اسلامی کے معروف رہنما بھی شامل ہیں۔ ان رہنماؤ ں میں امین قوفا، علاء ذیاب، عبد الفتاح،یاجس حمدیہ، علاء زیود، وجدی عاروری، اسلام عاروری، عاطف صالحی، اسلام حامد اور ایوب قواسمی کے نام سر فہرست ہیں۔ کمیٹی نے بتایا کہ اسلام عاروری نے اپنی گرفتاری کے خلاف کئی روز سے بھوک ہڑتال کر رکھی ہے تاہم انہیں اب تک رہا نہیں کیا گیا۔اس موقع پر کمیٹی نے کہا کہ فلسطینی جماعتوں میں مابین مستقبل میں ہونے والی کسی بھی مفاہمت کو حقیقی بنیادوں پر ہونا چاہیے۔ تنظیموں کے مابین پختہ اتحاد کے لیے تمام سیاسی اسیران کو فوری طور پر رہا کرنا ضروری ہے ۔
