فلسطینی اتھارٹی کی ایک عدالت نے سیاسی بنیادوں پرحراست میں لیے گئے 35 کارکنوں کی رہائی سے انکار کردیا ہے اور کہا ہے کہ زیرحراست افراد کے خلاف تحقیقات جاری ہیں اس لیے انہیں رہا نہیں کیا جاسکتا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم "ضمیر” کے مندوب مہند کراجہ کا کہنا ہے کہ تنظیم کی جانب سے پانچ سیاسی کارکنوں کی ضمانت پر رہائی کامطالبہ کیا تھا تاہم فلسطینی پراسیکیوٹر جنرل کی جانب سے ان کی درخواست مسترد کردی اور الٹا اپیل کورٹ سے استدعا کی کہ وہ حراست میں لیے گئے تیس سے زائد کارکنوں کی رہائی روک دے۔
انسانی حقوق کے مندوب کاکہنا تھا کہ حراست میں لیے گئے سیاسی جماعتوں کے کارکنوں سے تفتیش محض ایک بہانہ ہے۔ فلسطینی پراسیکیوٹر جنرل کی جانب سے گرفتار کارکنوں سے کسی قسم کی تفتیش نہیں کی گئی۔ صرف ایک آدھ بار ان سے پوچھ گچھ کے بعد معاملہ مجسٹریٹ عدالت کے سپرد کردیا جاتا ہے جو فوری طوپر ملزمان کو کم سے کم پندرہ دن کے لیے پولیس کی تفتیش میں دینے کا حکم صادر کرتی ہے۔
رام اللہ کے ایک سیاسی اسیر کے اہل خانہ کی جانب سے بھی قیدی کی ضمانت پر رہائی کے لیے چار الگ الگ درخواستیں دی تھیں لیکن انکی درخواستیں بھی مسترد کردی گئی ہیں۔
رام اللہ کے اس خاندان نے اپنے اسیر بیٹے کی شناخت توظاہر نہیں لیکن فلسطینی اتھارٹی کی عدالتی انتظامیہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس پر شہریوں سے سیاسی بنیادوں پر امتیازی سلوک روا رکھنے کا الزام عاید کیا۔
خیال رہے کہ رواں جولائی کے اوائل میں مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کے زیرانتظام سیکیورٹی اداروں نے اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے کارکنوں کے خلاف وحشیانہ کریک ڈائون شروع کیا تھا جس میں کم سے کم 250 سے زائدکارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
