فلسطینی محصور شہر غزہ کی پٹی میں وزارت دیہی ترقی و عوامی بہود کی جانب سے کہا گیا ہے کہ لوکل گورنمنٹ نے گذشتہ پانچ سال کے دوران شہرمیں انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کیا ہے۔
حکومت کاکہنا ہے کہ کم وسائل کے باوجود اس نے غزہ کی پٹی میں چونتیس ملین ڈالرز کے ترقیاتی منصوبے مکمل کیے ہیں۔ مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق لوکل گورنمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل زاھدی الغزیز نے غزہ ریڈیو کے ایک ہفتہ وار پروگرام کو انٹرویو میں بتایا کہ ان کی وزارت نے گذشتہ پانچ سال کے عرصے میں ترقیاتی منصوبوں کا ایک جال بچھایا ہے اور ان منصوبوں پر کم سے کم چونتیس ملین ڈالرز کی رقم خرچ کی گئی ہے۔
فلسطینی صحافی اور ریڈیو پروگرام کے اینکر محمد حبیب سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے جس شفافیت اور دیانت داری کے ساتھ منصوبے مکمل کیے ہیں ان کی مثال نہیں ملتی، لوکل گورنمنٹ نے ترقیاتی فنڈز کی ایک ایک پائی عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خرچ کی ہے اور ایک دھیلا بھی غیر ضروری جگہ پر خرچ نہیں ہوا ہے۔
اس سوال پر کہ آیا انہوں نے پانچ سالہ پالیسی کے تحت کس نوعیت کے منصوبے مکمل کیے ہیں مسٹر زاہدی کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت کے شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی، گلیوں اور محلوں میں سڑکیں پکی کرنا، سیوریج کا نظام ٹھیک کرنا اور اس نوعیت کے دیگر منصوبے شامل تھے۔ انہوں نے اسرائیل کی جانب سے عائد معاشی پابندیوں اور محاصرے کے باوجود نہایت دیانت داری اور جرات کا مظاہرہ کرکے وہ تمام منصوبے جو پانچ سال قبل شروع کیے تھے ان میں سے بیشتر کو مکمل کر لیا گیا اور بعض رہ جانے والی اسکیموں کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچا دیا جائے گا۔
ایک دوسرے سوال کے جواب میں لوکل گورنمنٹ کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ اسلامی بنک کی جانب سے انہیں غزہ کی پٹی میں فاضل مواد کو تلف کرنے اور اسے کارآمد بنانے کے لیے ایک سو ملین ڈالرز کا ایک پروجیکٹ ملنے والا ہے۔ اس کے لیے فنڈنگ اسلامی بنک کرے گا۔ اس کے علاوہ البریج کے مقام پر نئی سیوریج اور پانی کی لائنوں کی تنصیب کے لیے 80 ملین ڈالرز کے ایک منصوبے پر کان شروع کرنے کے لیے بات چیت چل رہی ہے۔ اس سلسلے میں حماس کی حکومت نے مختلف مخیر اداروں اور شخصیات سے رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ توقع ہے کہ اس منصوبے پربھی جلد از جلد کام شروع ہو جائے گا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
