فلسطین میں سرکاری سطح پر جاری ہونے والے اعدادو شمار میں بتایاگیا ہے کہ صہیونی فورسز کے ہاتھوں کم سن فلسطینی بچوں کی غیرقانونی گرفتاریوں کا سلسلہ زور پکڑ گیا ہے اور اس وقت صہیونی قید خانوں میں پابند سلاسل 18 سال سے کم عمر بچوں کی تعداد تین سو سے تجاوز کرگئی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین یے مطابق فلسطینی وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ رواں سال اپریل کے بعد اسرائیلی فوج اور پولیس کے ہاتھوں بچوں کی گرفتاریوں کے واقعات میں غیرمعمولی اضافہ ہوا۔ اگست کے آخر میں اسرائیلی جیلوں میں قید بچوں کی تعداد 301 تک جا پہنچی ہے۔
رپورٹ کے مطابق صہیونی افواج کے ہاتھوں سب سے زیادہ انتقام کا نشانہ بیت المقدس اور غرب اردن کے الخلیل شہر کے فلسطینی بچے بنتے رہے ہیں۔ اور انہی دو شہروں کے کم عمر بچے اسرائیلی جیلوں میں سب سے زیادہ ڈالے گئے ہیں۔ بیت المقدس کے 145 اور الخلیل شہر کے 55 بچے صہیونی حراستی مراکز میں ہیں۔ نو بچوں کا تعلق غزہ کی پٹی سے ہے۔
اس کے علاوہ مغربی کنارے کے شہروں بیت لحم، نابلس، جنین، طوباس، قلقیلیہ اور رام اللہ سے بھی درجنوں بچے صہیونی قید خانوں میں پابند سلاسل ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
