اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی [الانروا] نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں رہنے والے فلسطینیوں کی مدد کے لئے 300 ملین ڈالر کی امداد کی ایمرجنسی اپیل جاری کردی ہے۔
اس امداد کا ایک بڑا حصہ 78 ملین ڈالر غزہ کے تقریبا 75000 محروم فلسطینیوں کے لئے خوراک کا بندوبست کرنے میں کام آئے گا۔ غزہ میں چھے سال کے محاصرے کی وجہ سے خوراک کی کمی کا شکار ہے۔ اس اپیل سے جمع ہونے والی رقم سے عارضی ملازمتوں اور متاثرین کی نقد امداد میں کام آئے گی۔
غزہ میں پروگرام کی افتتاحی تقریب خطاب کرتے ہوئے الانروا کے ڈپٹی کمیشنر جنرل مارگریٹ ایلس نے کہا کہ: "دنیا بھر میں سیاسی رہنمائوں اور مخیر حضرات سے نئے خطرات سے نمٹنے کے لئے مدد کی اپیل کی جاتی ہے اسی وقت یہاں غزہ میں انسانوں ہی کے پیدا کردہ مسائل کی وجہ سے غزہ اور مغربی کنارہ میں بحران کی سی کیفیت ہے اور اس میں چھ دہائیاں گزرنے کے باوجود کمی کا کوئی امکان نہیں ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ "فلسطینی علاقوں میں بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی راہ میں سب سے بڑا مسئلہ فنڈز کی کمی ہے جس سے فلسطینی خاص طور پر مہاجروں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اب تک اس مسئلے کا کوئی حل سجھائی نہیں دے رہا۔”
الانروا پروگرام کے سوشل سروسز پروگرام کی ڈائریکٹر مارتھا مئیرز نے صحافیوں کو بتایا کہ "فلسطینی عوام 30 سال کے عرصے میں ایک دوسرے درجے کے ملک سے تیسرے درجے کے ملک کے شہری بن گئے ہیں۔ یہ تنزلی بلا روک جاری ہےاور اس ناکہ بندی کی وجہ سے فلسطینیوں کی ندرت فکر دب رہی ہے۔ لوگوں کی زندگیاں تباہ ہو رہی ہیں اور ایک پورے معاشرے کو کمزور کیا جا رہا ہے اور سیاسی ہم آہنگی کی امید کمزور ہوتی جارہی ہے اور ایک مثبت نتیجہ نکلنے کے امکانات کمزور ہو رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ الانروا کی ایمرجنسی اپیل کے فنڈ سے غزہ اور مغربی کنرے میں ذہنی صحت کے پروگرام، ایمرجنسی صحت کے پروگرام اور پانی اور نکاسی آب کے پروگرامز کے لئے استعمال کیا جائے گی۔
مغربی کنارے میں الانروا پروگرام کے ڈائریکٹر فلپ سانچز نے کہا کہ:”مغربی کنارے میں عمارتیں گرانے کے واقعات اور آبادکاروں کے تشدد کے واقعات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی وجہ سے بے دخلی اور مجبورا نقل مکانی ہو رہی ہے جس سے مہاجرین بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے مسلسل فنڈنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔”
ایجنسی کی 2012 کی ایمرجنسی اپیل کو صرف آدھی امداد ہی اکٹھی کرسکی تھی۔ یہ امر یاسیئت کی شکار آبادیوں کو کمزور کرتا ہے۔ ایجنسی اس کے باوجود بھی آخری سال امداد دینے والے لوگوں کی شکرگزار ہے۔ الانروا کے ہنگامی امداد سے 700000 فلسطینی مہاجرین کی زندگیوں پر مثبت اثرات پڑ رہے ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
