مسجد اقصیٰ میں یہودی انتہا پسندوں کے داخلے تو پہلے روز کا معمول بنتے جا رہے ہیں، جس سے فلسطینی شہری سخت پریشانی کا شکار ہیں۔
ان انتہا پسندوں کے قبلہ اول میں داخلے کے جلو میں صہیونی فوجی عہدیدار بھی دانستہ طور پر مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کر مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کر رہے ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اقصیٰ فاؤنڈیشن نے اپنے ایک تازہ بیان میں اطلاع دی ہے کہ اتوار کے روز کم سے کم 30 فوجی افسروں پر مشتمل ایک گروپ نے مسلمانوں کے پہلے قبلہ اول میں داخل ہو کراس کی بے حرمتی کا ارتکاب کیا۔
بیان میں بتایا گیا کہ مسلح صہیونی فوجی فوجی وردیوں میں ملبوس ہو کر مراکشی دروازے سے مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے اورایک گھنٹے تک مقدس مقام میں گھومتے رہے۔ اس دوران صہیونی فوجیوں نے اپنے ہاتھوں میں اٹھائے کیمروں سے مخصوص مقامات کی تصاویر بھی اتاریں
ادھر اتوار کو علی الصباح 11 انتہا پسند یہودیوں کے ایک گروپ نے بھی مسجد اقصیی پر دھاوا بولا۔ انتہا پسند یہودیوں کی قیادت ایک یہودی ربی کر رہے تھےجو مسجد اقصیٰ کو شہید کرکے اس کی جگہ ہیکل سلیمانی کے مطالبات کی صہیونی مہمات میں پیش پیش رہاہے۔
اقصیٰ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ انتہا پسند یہودیوں کے بعد قابض فوج کی قبلہ اول میں داخلہ اشتعال انگیز اقدام ہے۔ صہیونی فوجیوں نے انتہا پسندوں کے داخلے کی راہ ہموار کرنے کی کوششیں شروع کی ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت ایک دانستہ سازش کے تحت انتہا پسندوں کو مسجد اقصیٰ میں داخلے کی سہولت فراہم کررہا ہے اور نام نہاد سیاحوں کی آڑ میں انتہا پسندوں کو قبلہ اول کی بے حرمتی کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
