مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی جیلوں میں پابند سلاسل بھوک ہڑتالی اسیران کے ساتھ یکجہتی کے لیے صہیونی ریاست کی تمام جیلوں میں قید 5200 فلسطینی اسیران نے اپنے ساتھیوں کےساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر بھوک ہڑتال میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔ رواں ہفتے کے دوران ہزاروں فلسطینی اسیران بھوک ہڑتالی مہم میں شامل ہو سکتے ہیں۔
ادھر فلسطین میں اسیران کے حقوق کے سرگرم اداروں نے فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس سے کہا ہے کہ وہ قیدیوں کی بھوک ہڑتال ختم کرانے اور ان کی بنیادی حقوق اور مطالبات منوانے کے لیے عالمی برادری سے رجوع کریں۔ انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ بھوک ہڑتالی اسیران کا یہ مطالبہ حق بہ جانب ہے کہ انہیں بغیر کسی جرم کے انتظامی حراست میں رکھا گیا ہے۔ اسرائیل انہیں فوری طور پر رہا کردے۔
درایں اثناء رام اللہ میں فلسطینی وزارت امور اسیران کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بھوک ہڑتال کے ایک ماہ میں کم سے کم 20 فلسطینی قیدی بھوک کے باعث زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔ ہوش و حواس کھو دینے کے بعد ان قیدیوں کو اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے، قیدیوں کی حالت خراب ہونے کے باوجود صہیونی ریاست میں نہ مانوں کی اپنی ہٹ دھرمی پر بدستور قائم ہے۔ اگر صہیونی جیل انتظامیہ قیدیوں کے مطالبات تسلیم نہیں کرتی تو بھوک ہڑتالی اسیران کی زندگیاں خطرات سے دوچار ہو سکتی ہیں۔
