شمالی فلسطین کے سنہ 1948ء کے مقبوضہ علاقوں میں یہودی انتہا پسندوں نے فلسطینی شہریوں کے ملکیتی زیتون کے 30 پھل دار درخت تلف کرتے ہوئے ان کے زیتون کے باغات کو تباہ کرنے کی کوشش کی ہے۔
اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کےمطابق انتہا پسند یہودیوں کے ایک مقامی غنڈہ گروپ نے صہیونی انتہا پسندوں نے ہفتے کے روز علی الصباح گرین لائن کے اندر واقع کفر قاسم کے مقام پر فلسطینیوں کے ملکیتی زیتون کے تیس پھل دارپودے تلف کردیے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ زیتون کے پودوں کو تباہ کرنے کے لیے یہ یہودی آباد کار شمالی مغربی کنارے کے شہر نابلس کی”ایچ کوڈیچ” یہودی کالونی سے وہاں گئے تھے۔
ادھر صہیونی پولیس نے مقبوضہ فلسطینی شہر القصرمیں فلسطینیوں کی املاک پر حملوں میں ملوث سات یہودیوں کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان میں چار یہودی آباد کار کم عمربتائے جاتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے یہودی آباد کاروں کوجلد ہی صہیونی عدالت میں پیش کیا جائےگا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
