عبرانی اخبار”معاریف” کی رپورٹ کے مطابق واپس کی جانے والی میتوں میں مغربی کنارے، غزہ کی پٹی، بیت المقدس اور سنہ 1948 ء کے شہداء کے جسد ہائے خاکی بھی شامل ہیں۔ سنہ 1948 ء کے علاقوں سے دو شہداء کے جسد خاکی ان کے ورثاء کو دیے جائیں گے۔
رپورٹ کے مطابق کچھ شہداء کی میتیں آئندہ پانچ نومبر اور بعض کی سات نومبرکو ان کے ورثاء کے حوالے کی جائیں گی۔
فلسطینی شہداء کی میتیں واپس لینے کے لیے قائم قومی کمیٹی کے نگراں سالم خلہ نے خبر رساں ایجنسی” قدس پریس” کو بتایا کہ اسرائیلی سپریم کورٹ نے ان کی درخواست پر فلسطینی شہداء کے ڈی این اے کرانے کے بعد ان کی میتیں ورثاء کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ تمام میتیں کئی سال سے اسرائیل کے پاس "ڈیجیٹل قبرستان” میں موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بعض میتوں کے ڈین این اے مکمل کرلیے گئے ہیں باقی میتوں کی شناخت کے بعد انہیں پانچ اور چھ نومبر کو ان کے ورثاء کے حوالے کیا جائے گا۔
سالم خلہ نے بتایا کہ ان کی مساعی سے اسرائیلی عدالت الخلیل کے شہداء احمد عائد الفقیہ، محمد مصطفیٰ شادہین، بیت لحم کی خاتون شہیدہ آیات الاخرس، طوباس کے سامی بشارات، جنین کے مجدی خنفر اور نابلس کےاحمد یاسر طالب کو ان کے ورثاءکے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
