اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے صہیونی فوجی ذریعے کے حوالے سے خبر دی ہے کہ فوج نے رواں سال میں اب تک مغربی کنارے میں فلسطینیوں کےہاتھوں فوجیوں کے اغواء کی تیس کوششیں ناکام بنائی ہیں۔
عبرانی اخبار”معاریف” کی رپورٹ کے مطابق فوج نے رواں سال مارچ میں الخلیل شہر میں ایک بڑے سرچ آپریشن میں اسلامی تحریک مزاحمت [حماس]کے مزاحمت کاروں کے بیس جنگجو حراست میں لے کر فوجیوں کے اغواء کی ایک بڑی سازش ناکام بنا دی تھی۔ حماس کےیہ تمام کارکن صہیونی فوجیوں کے اغواء کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق ایک دوسری کارروائی میں جنین میں اسلامی جہاد کے کئی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا۔ وہ بھی اسرائیلی فوجیوں کو یرغمال بنانے کی ایک سازش تیار کر رہے تھے۔ یہ گرفتاریاں جنین میں "ایال” فوجی چوکی کے قریب سے اس وقت کی گئی جب فوج کو معلوم ہوا کہ اسلامی جہاد کےمزاحمت کار ایک جگہ چھپ کر فوجیوں کی نقل وحرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
رواں سال مئی میں الخلیل میں بنی نعیم قصبے میں ایک کارروائی کر کے اسلامی جہاد کے نو کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جن کے پاس فوجیوں کی تفصیلات اور فوجی کیمپوں کے نقشے برآمد ہوئے۔ انہوں نے دوران حراست اعتراف کیا کہ وہ اپنے قیدیوں کی رہائی کے لیے صہیونی فوجیوں کے اغواء کی اسکیم تیار کر رہے تھے۔
رواں ماہ میں رام اللہ کے قریب سے حماس کے ایک اہم کمانڈر کو حراست میں لیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ رام اللہ سے حراست میں لیے گئے حماس کے کمانڈر نے بھی یہودی فوجیوں کے اغواء کا منصوبہ تیار کر رکھا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فسلطین
