اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے مغربی کنارے کے تاریخی شہر الخلیل کے قریبی گاؤں صوریف کے قریب فلسطینی اور عالمی انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کی جانب سے بسائے جانے والے گاؤں ”کنعان 3” پر حملہ کرکے اسے منہدم کردیا ہے۔
فلسطینی حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں نے خبر رساں ایجنسی ”قدس پریس” سے گفتگو کے دوران بتایا کہ اسرائیلی فوج نے صوریف گاؤں کی قریبی اسرائیلی چیک پوسٹ ”بوابہ جبع” کے قریب نصب کیے گئے خیموں کو اکھاڑ پھینکا ہے۔ یہ خیمے اسرائیل کی جانب سے فلسطینی اراضی پر قبضے کے سلسلے کے خلاف لگائے جارہے تھے۔
ایک فلسطینی سرگرم کارکن نے بتایا کہ اس احتجاجی خیمہ بستی کو یہودی بستی ”عتصیون” کے قریب لگانے کا پروگرام بنایا گیا تھا تاہم وہاں پر اسرائیلی فوجیوں کی بھاری تعداد میں موجودگی کے سبب اسے جبع کے علاقے میں لگا دیا گیا، تاہم یہاں پربھی اسرائیلی فوج نے ہلہ بول دیا اور تمام خیمے اکھاڑ دیے۔
اسرائیلی فوج نے تین غیر ملکی رضا کاروں کو گرفتار بھی کرلیا اور اس احتجاجی بستی میں شرکت کے لیے آنے والوں کو ساؤنڈ بم اور آنسو گیس کے شیل برسا کر منتشر کردیا۔
واضح رہے کہ گاؤں ”کنعان” فلسطینیوں کی جانب سے بسایا جانے والا ایک علامتی گاؤں ہے، فلسطینیوں نے اسرائیلی یہودی بستیوں کے خلاف احتجاج کے طور فلسطینی گاؤں بسانے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ سب سے پہلے اسرائیل کی جانب سے یہودی بستی کی مجوزہ اراضی پر ”باب الکرامہ” نامی گاؤں یا خیمہ بستی لگائی گئی تھی۔ جس کے بعد فلسطینیوں میں احتجاج کا یہ طریقہ مقبول ہوتا جارہا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
