مقبوضہ بیت المقدس کی ایک مرکزی عدالت نے دو فلسطینی اسیران پر حماس سے تنظیمی تعلق کا الزام عائد کیا ہے. ان کے خلاف مقدمے کی آئندہ سماعت 28 اکتوبر کو ہو گی. عدالتی فیصلے کا نشانہ بننے والوں میں فلسطینی اسیر کفاح سرحان اور یعقوب ابو عصب شامل ہیں.
عدالت نے بیت المقدس ہی کے ایک اور رہائشی احمد علیان پر اسلامی تحریک مزاحمت کی سرگرمیوں میں شرکت کا الزام عاید کیا ہے.
فلسطینی اسیران کے خلاف عدالت میں پیش کردہ چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ "تینوں ملزمان القدس میں حماس کی مجلس شوری کے رکن ہیں. انہوں نے اہالیاں القدس کے لئے متعدد تربیتی پروگرام تشکیل دینے کی خاطر شہر کے مختلف مقامات پر اپنے اجلاس منعقد کئے. دینی اور سماجی خدمات سے متعلق حماس کے مجوزہ پروگرام کا مقصد اہالیاں القدس کے دلوں میں تنظیم کے لئے ہمدردی پیدا کرنا تھا. نیز ان کوششوں کے ذریعے ملزمان حماس کی القدس الکبری میں تمکنت کو بڑھاوا دینا چاہتے ہیں.”
چارج شیٹ میں مزید دعوی کیا گیا ہے کہ القدس سے تعلق رکھنے والے اسیران کی سرگرمیاں دراصل علاقے میں حماس کی سرگرمیوں کو منظم کرنے کی خاطر سرمایہ فراہم کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں. چارج شیٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ ملزمان کے نام اردن سے مختلف تاجروں نے ہزاروں دینار منتقل کئے ہیں تاکہ اس فنڈ کو شہر میں حماس کی سرگرمیاں منظم کرنے کے لئے استعمال کیا جا سکے.
فلسطینی اسیران کے مقدمے کی سماعت کرنے والے جج امیون کوہین سمجھتے ہیں کہ حماس عوامی خدمات کا بڑا نیٹ ورک چلا رہی ہے، اگرچہ بادی النظر میں اس کا مقصد انسانی خدمت معلوم ہوتا ہے تاہم اصل اور خفیہ مشن یہ ہے کہ اہل علاقہ کو اس ‘دہشت گرد’ تنظیم سے جوڑا جا سکے. عدالت کا کہنا تھا کہ رفاحی سرگرمیاں اور زکواة کا نظام ایسے ٹولز ہیں کہ جنہیں استعمال کر کے تنظیم اپنا اثر و نفوذ بڑھانا چاہتی ہے.
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
