اسرائیلی جیل میں قید بیت لحم شہر کے 32 سالہ ایمن حمدان نے گذشتہ روز اسرائیلی جیل انتظامیہ کے ساتھ ایک معاہدے کے نتیجے میں اپنی تین ماہ سے جاری بھوک ہڑتال ختم کردی ہے۔
اسییر ایمن حمدان کے بھائی دائود حمدان نے فلسطینی اسیران کے حقوق کے لئے کام کرنے والے ادارے احرار سنٹر برائے انسانی حقوق کو بتایا ہے کہ ان کے بھائی نے اسرائیلی جیل حکام کی جانب سے ان کی انتظامی قید چھ ماہ سے کم کر کے چار ماہ کردی ہے جس کی وجہ سے انہوں نے اپنی بھوک ہڑتال ملتوی کر دی ہے۔
دائود کے مطابق اب انہیں 22 دسمبر کو رہا کیا جائے گا۔ اسیر ایمن حمدان کو اتنا عرصہ بھوک ہڑتال کرنے کی وجہ سے مختلف بیماریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے بھائی دائود نے بتایا کہ ان کے بھائی ابھی بھی آساف ہرووچ ہسپتال میں قید ہیں جہاں ان کا علاج کیا جارہا ہے۔
احرار سنٹر کے ڈائریکٹر فواد خفش نے بتایا ہے کہ ایمن حمدان نے اپنی انتظامی حراست میں بار بار توسیع پر بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ ایمن حمدان کو 22 اگست 2012ء سے بغیر کسی الزام کے حراست میں رکھا گیا ہے اور انہوں نے اپنے مطالبات کی منظوری کے لئے 28 اپریل سے بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔
خفش نے بتایا ہے کہ اسیران کی جانب سے انہی اقدامات اور بھوک ہڑتالوں کی وجہ سے اسرائیلی حکام ان کے مطالبات ماننے پر مجبور ہوئے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
