مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسیران کے حقوق کے سرگرم تنظیم "مرکزاحرار” کے ڈائریکٹر فواد الخفش نے بتایا کہ گذشتہ جون میں مغربی کنارے سے 3 یہودی آباد کاروں کی پراسرار گم شدگی کے بعد صہیونی فوج نے کریک ڈاؤن میں بڑی تعداد میں عام شہریوں میں منتخب ارکان اسمبلی کو بھی حراست میں لے کر جیلوں میں ڈال دیا تھا۔
دوران حراست ان بزرگ ارکان سے بھی یہودی لڑکوں کے اغواء کے بارے میں سفاکانہ طریقے سے پوچھ تاچھ کی جاتی رہی ہے۔ فواد الخفش کا کہنا تھا کہ صہیونی جیلوں میں اب بھی فلسطینی مجلس قانون ساز کے اسپیکر ڈاکٹر عزیز دویک ارکان پارلیمنٹ حسن یوسف، محمد جمال النتشہ، محمد ابو طیر، باسم زعاریر، داؤد ابو سیر، حسنی البورینی، عبد الجابر فقہا، یاسر منصور، حاتم قفیشہ، نزار رمضان، محمد ماھر بدر، عبدالرحمان زیدان، ابراہیم ابو سالم، عزم سلھب، احمد مبارک، عماد نوفل اور عمر عبدالرزاق سمیت کئی دوسرے ارکان بدستور قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
