فلسطین میں مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے سرگرم سپریم مسلم ۔ مسیحی کمیٹی نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل مقبوضہ بیت کے قلب میں 269 اہم ترین تاریخی مقامات کو یہودیت میں تبدیل کرنے کے ایک خوفناک منصوبے پر عمل پیرا ہے۔
بیت المقدس کے یہ تاریخی مقامات صدیوں پرانے ہیں، جنہیں اسرائیل اپنے مخصوص عجائب گھروں، لائبریریوں اور دیگر مقاصد میں تبدیل کررہا ہے، جبکہ کئی تاریخی مقامات کا سرے سے نام و نشان ہی مٹا کر وہاں پر یہودی کالونیاں، سڑکیں اور دفاتر تعمیر کیے جا رہے ہیں۔
سپریم کمیٹی کے سیکرٹری جنرل حنا عیسیٰ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ "بیت المقدس کے قلب میں یہودی انتہا پسندوں اور صہیونی حکومت کے اشتراک سے جاری منصوبے شہر کی تاریخی اور تہذیبی ھیئت کو تباہ کرنے کے گہری سازش ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مجموعی طور پر بیت المقدس میں دو سو انہتر اہم ترین مقامات کو یہودیت میں تبدیل کرنے کی سازش جاری ہے۔ پرسوں اتوار کے روز صہیونی وزارت داخلہ نے مسجد اقصیٰ کے جنوب میں سلوان کالونی میں ایک تاریخی میوزیم کے قیام کی منظوری دی۔ یہ منظوری ایک ایسے وقت میں دی گئی جب دوسری جانب مسیحی برادری کو عید الفصح اور سبت النور کے موقع پر ان کے مذہبی مقامات میں عبادت سے بھی روک دیا گیا۔
حنا عیسٰی کا کہنا تھا کہ قابض صہیونی ریاست اپنی اجارہ داری قائم کرتے ہوئے بیت المقدس میں تلمودی باغات، پارک، میوزیم، معابد، یہودی کالونیاں اور یہودی مذہب کی شناخت اور ترویج کی اسکیموں کو آگے بڑھا رہی ہے۔ اس پر مستزاد یہودی آباد کاروں کو بیت المقدس میں مسلط کر کے شہر کی مسلم اور مسیحی آبادی کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے تاکہ مستقبل میں بیت المقدس میں اسلام اور عیسائیت کا کوئی نام لیوا باقی نہ رہے۔ انہوں نے بیت المقدس کے خلاف جاری صہیونی سازشوں کو یہودیوں کی منظم دہشت گردی قرار دیتے ہوئے عالم اسلام سے بیت المقدس کی تاریخی حیثیت کو بچانے کا مطالبہ کیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
