اسرائیل سے شائع ہونے والے مٶقر عبرانی اخبار ‘ہارٹز’ نے اپنی حالیہ اشاعت میں انکشاف کیا ہے کہ قابض صہیونی فوج نے فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کی جانب سے اپنے فوجیوں کو اسیر بنانے کی 27 کوششوں کو ناکام بنا دیا ہے۔
اخبار نے اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ گزشتہ برس بھی پہلے چھے مہینوں کے دوران فلسطینی تنظیموں نے اسیرائیلی فوجیوں کو اسیر بنانے کی 27 مرتبہ کوشش کی۔ ان اعداد و شمار کی روشنی میں شام میں جاری شورش کے تناظر میں اسرائیلی فوج نے گولان کے علاقے سے صہیونی فوجیوں کو ‘اسیر’ بنائے جانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
‘ہارٹز’ کے مطابق شمالی سرحد پر گولان کے علاقے میں اسرائیل کو اپنے فوجیوں کے اغوا کی اسی طرح پریشانی لاحق ہے کینوکہ گزشتہ برس مارچ میں اسی علاقے سے اقوام متحدہ کی امن فوج ‘یونیفل’ کے ارکان کو اغوا کیا جا چکا ہے۔
ایک اعلی اسرائیلی فوجی اہلکار نے اخبار کو اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں کو اغوا کرنے کی سب سے زیادہ کارروائیاں حماس کے خفیہ سیلز کی جانب کی گئیں ہیں۔ بہ قول فوجی اہلکار مختلف فلسطینی تنظیموں نے اسرائیلی فوجیوں کو اغوا کرنا اپنا مرکزی ہدف بنا رکھا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی تنظیمیں اسرائیلی فوجیوں کو یرغمال بنا کر ان کی رہائی کے بدلے اپنے قیدیوں چھوڑنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوجیوں کو اغوا کرنے کی کوششوں کی روشنی میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم انہیں کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور اس سلسلے میں مکمل طور پر چوکس رہیں۔
صہیونی فوج نے اپنے فوجیوں کے اغوا کی ایک کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں بتایا ہے کہ سن 2013ء کی آمد پر جہاد اسلامی تنظیم نے صہیونی فوجی اغوا کرنے کی کوشش کی، تاہم ‘ایال’ ناکے پر کی جانے والی یہ کوشش اسرائیلی فوج نے ناکام بنا دی اور وہاں موجود فوجیوں نے جہاد اسلامی کے متعدد افراد کو گرفتار کر لیا اور ان کے قبضے سے اغوا کی کارروائی میں استعمال ہونے والی متعدد چیزیں برآمد کر لیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
