فلسطین کے مختلف علاقوں میں یہودی آباد کاری کے ذریعے اسرائیلی حکومت فلسطینی آبادی کو کم کرنے کے لیے کوشاں ہے لیکن خود صہیونی حکومت کے اعداد و شمار صہیونی انتہا پسندوں کے لیے سخت پریشانی کا باعث بن گئے ہیں۔
اسرائیل کی "سول انتظامیہ ” کی جانب سے فلسطینیوں کی آبادی کے تناسب کے حوالے سے ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ برس مئی 2012ء کو مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی آبادی چھبیس لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی۔
اسرائیل کے عبرانی اخبار نے”سول انتظامیہ” کی اس دستاویز پرایک رپورٹ شائع کی ہے۔ اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انتہا پسند یہودیوں اور سول انتظامیہ کے فلسطینیوں کی آبادی کے اعدادو شمار میں کھلا تضاد پایا جا رہا ہے۔ اس رپورٹ میں مقبوضہ غرب اردن میں فلسطینیوں کی آبادی اڑھائی ملین سے زیادہ بتائی جا رہی ہے جبکہ انتہا پسند جماعتوں کی جانب سے یہ تعداد صرف ڈیڑھ ملین بتائی جاتی رہی ہے۔
صہیونی سول انتظامیہ کی جانب سے فلسطینیوں کی آبادی کے حوالے سے دستاویز کی تیاری میں غیرملکی ماہرین اور ایک امریکی ماہر افزائش آبادی نے بھی حصہ لیا ہے۔ ماہرین اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ گذشتہ چند برسوں سے فلسطینیوں نے چپکے سے اپنی آبادی میں ایک لاکھ افراد کا اضافہ کرلیا ہے۔ تاہم یہ اعدادو شمار اسرائیل کے انتہا پسند حلقوں میں قابل قبول نہیں ہیں۔ ان کا دعوٰی اس کے برعکس ہے۔ وہ یہ کہ مغربی کنارے میں فلسطینی آبادی سولہ لاکھ سے زیادہ نہیں ہو گی۔
امریکی دانشور اور جغرافیہ کے استاد پروفیسر ارنون سوویر کا کہنا ہے کہ جب ہم کسی خاص مقام کی آبادی کا تعین کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس جگہ کی آبادی کا مکمل سروے کرنا ہوتا ہے۔ اگر یہودیوں کے کچھ گروپوں کا دعویٰ یہ ہے کہ مغربی کنارے میں فلسطینی مسلمانوں کی تعداد ڈیڑھ ملین سے زیادہ نہیں تو میں اسے سب سے بڑا دھوکہ سمجھوں گا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
