مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کے ادارے کی جانب سے جاری ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی وزارت داخلہ کے حکم پر دو سال میں دو سو اکتالیس فلسطینیوں کو بیت المقدس سے نکالا گیا اور ان کی شہر میں سکونت ختم کی گئی۔ اس دوران صرف 27 فلسطینیوں کو دوبارہ شہر کی سکونت کا حق دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق گذشتہ دو برسوں کے دوران فلسطین کے 1255 خاندانوں نے بیت المقدس میں اپنی شہریت اور سکونت کے لیے درخواستیں دیں۔ جن میں سے 405 درخواستوں کو سرے سے قابل غور ہی نہیں سمجھا گیا۔ 174 ء درخواستیں غور کے بعد مسترد کی گئیں۔ 84 پر فی الوقت کام روک دیا گیا جبکہ 592 درخواستوں پر غور تو کیا جا رہا ہے تاہم یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ اسرائیل ان درخواستوں کو بھی مختلف حیلوں بہانوں سے مسترد کر دے گا۔
رپورٹ کے مطابق انہی دو برسوں کے دوران بیت المقدس میں پیدا ہونے والے 500 فلسطینی بچوں کو بیت المقدس کے شہری کے طور پر رجسٹرڈ کرنے سے انکار کیا گیا۔ یوں پانچ سو بچوں کو بیت المقدس میں اسکولوں میں داخلے اور طبی سہولیات کے بنیادی حق سے محروم کیا گیا ہے۔
فلسطینی تجزیہ نگار یاسین غیث کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزارت داخلہ کے پاس فلسطینی شہریوں کی بیت المقدس کی سکونت ختم کرنے کا کوئی ٹھوس جواز نہیں ہے۔ صہیونی ریاست نے اس مذموم مقصد کے لیے جتنے بھی دعوے اور دلائل تراشے ہیں وہ سب بے بنیاد ہیں، عقل انہیں تسلیم نہیں کرتی۔ اسرائیل ایک سازش کے تحت بیت المقدس سے فلسطینیوں کے وجود کو ختم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
