اسرائیلی اخبار "معاریف” کی رپورٹ نے صہیونی رکن کنیسٹ اور لیبر پارٹی کے رہنما "اسٹیف شفیر” کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت پیش آئند سال بھی فلسطینی شہروں میں بڑے پیمانے پر یہودی آباد کاروں کے لیے مکانات کی تعمیر کا ارادہ رکھتی ہے۔
اسرائیلی سیاست دان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے پیش آئند سال کے لیے یہودی آباد کاری کے بجٹ میں 240 فی صد اضافی بجٹ مختص کیا ہے۔ اس بجٹ کا 75 فی صد مشرقی بیت المقدس اور مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاری پرصرف کیا جائے گا۔
مسٹر شفیر کے بیان سے قبل اسرائیلی اخبارات میں بھی یہ خبریں شائع ہو چکی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ سال 1520ء کے دوران صہیونی حکومت یہودی آباد کاری کی مد میں 140 ملین شیکل کی رقم مختص کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جبکہ رواں سال کے دوران یہودی آبادکاری پر 58 ملین شیکل کی رقم مختص کی گئی تھی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
