صہیونی عقوبت خانوں میں ہزاروں فلسطینی قیدی اس وقت عزم و ہمت کی نئی داستان رقم کر رہے ہیں۔ اسی طرح کے ایک اسیر محمود عثمانی ابراھیم جبارین بھی ہیں،
ام فحم سے تعلق رکھنے والے سینتالیس سال کے جبارین نے صہیونی قید و بند میں اپنے چوبیس سال مکمل کرلیے ہیں۔
جبارین ان قدیم رہنما اسیران میں شامل ہیں جو بیس سال سے زائد عرصہ صہیونی عقوبت خانوں کی نذر کر چکے ہیں۔ انہیں آٹھ اکتوبر سنہ انیس سو اٹھاسی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اسرائیلی عدالت نے انہیں مزاحمتی تنظیم کے ساتھ تعلق رکھنے اور اسرائیل کے خلاف عسکری کارروائی میں ملوث ہونے کی پاداش میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ تاہم بعد ازاں یہ سزا کم کرکے تیس سال کردی گئی ہے۔
یاد رہے کہ صہیونی عقوبت خانوں میں پانچ ہزار سے زائد فلسطینی قید ہیں۔ ان اسیران میں بعض ایسے بھی ہیں جو اپنی زندگی کی 35 قیمتیں بہاریں کال کوٹھریوں کی نذر کر چکے ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
