ایک ماہ سے بھوک ہڑتال پر گئی فلسطینی اسیرہ ھناء الشلبی کے ساتھ اظہار یک جہتی میں اسرائیلی ’’مجدو‘‘ جیل میں بھوک ہڑتال کرنے والے اسیران کی تعداد چوبیس ہو گئی ہے۔
اسیران کے وکیل جواد بولص نے بتایا کہ صہیونی انتظامیہ نے بھوک ہڑتال کرنے والے چار اسیران کو دیگر جیلوں میں منتقل کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ ایک جانب اپنی ناجائز انتظامی حراست کے خلاف 31روز تک بھوک ہڑتال جاری رکھنے والی ھناء الشلبی کی حالت انتہائی تشویشناک ہے تو دوسری جانب بارہ روز سے کچھ کھائے بغیر رہنے والے ان اسیران کے حالات بھی دگرگوں ہوتے جا رہے ہیں۔
اسیران کے وکیل جواد بولص نے بتایا کہ چوبیس افراد میں سے حماس کے رہنما محمد صبحہ کو جلبوع کی جیل، محمد العبوشی او عسقلان، بلال کمیل کو نامعلوم مقام اور طارق قعدان کو عکا جیل میں انفرادی حراست میں ڈال دیا گیا ہے۔
اسیران نے وکیل کو بتایا کہ ان کی بھوک ہڑتال کے بعد اسرائیلی جیل انتظامیہ نے ان کے خلاف اوچھے حربے استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں۔ صہیونی انتظامیہ دیگر افراد کی بھوک ہڑتال میں شرکت کے خوف سے ان اسیران کو قید تنہائی میں منتقل کرتی جا رہی ہے۔ اسیران نے بتایا کہ ھناء الشلبی کے ساتھ یکجہتی میں بھوک ہڑتال کرنے والے قیدیوں کی تعداد چوبیس تک جا پہنچی ہے جن میں سے بعض افراد دس روز سے زائد عرصے سے کچھ کھائے بغیر احتجاج کر رہے ہیں۔
مجدو جیل کی انتظامیہ کی جانب سے جاری و ظلم و ستم کےخلاف فلسطینی لایا جانے والا کھانا بطور احتجاج واپس بھیجتے جا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ الشلبی ان پانچ اسیران میں شامل ہیں جنہیں گزشتہ برس تبادلہ اسیران معاہدے کے تحت رہائی کے بعد اسرائیل نے دوبارہ گرفتار کر رکھا ہے۔ الشلبی سے قبل انتظامی حراست کے خلاف شیخ خضر عدنان نے طویل بھوک ہڑتال کر کے عزم و ہمت کا نیا باب رقم کیا تھا جن کے نقش قدم پر چلتے ہوئے الشلبی نے بھی اپنے لیے خالی معدے احتجاج کا سفر چنا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

