شام میں موجود فلسطینیوں کے ایکشن گروپ کا کہنا ہے کہ مصری حکام ڈیڑھ ماہ قبل حراست میں لئے گئے 236 شامی اور فلسطینی مہاجرین کو شام یا لبنان ڈی پورٹ کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔
ان گرفتار شدگان میں چار خاندان بھی شامل ہیں جو کہ شامی بحران سے فرار کی کوشش میں ڈیڑھ ماہ قبل مصر کی طرف آئے تھے مگر مصری حکام نے انہیں گرفتار کرلیا تھا۔فلسطینی اور شامی اسیران نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کی مشکل آسان کرنے میں مدد کرے کیوںکہ وہ 45 دن قبل یورپ جانے کی کوشش میں شام سے نکلے تھے اور اب انہیں دوبارہ وہیں بھیجا جارہا ہے۔
ان قیدیوں میں سے مصر کی ابو قیر جیل میں قید ایک قیدی نے ایکشن گروپ سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے اور انہیں بتایا ہے کہ مصری حکام ان کو شام یا لبنان ڈی پورٹ کرنے کا ارادہ کررہے ہیں۔
مصری حکام نے ان اسیران کو ڈی پورٹ کرنے کے لئے ان کے دستاویزات اپنے قبضے میں لے رکھے ہیں۔ اس کے علاوہ ان قیدیوں کو انتہائی غیر انسانی اور مشکل حالات میں رکھا گیا ہے۔
ابو قیر کے اسیر نے مصری حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انہیں مصری سرزمین پر پناہ دے دے کیوںکہ وہ ان حالات میں مزید نہیں رہ سکتے ہیں نہ ہی کہیں جا سکتے ہیں۔
اسیر نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ تین فلسطینی خاندان اور ایک شامی اسیران ان قیدیوں میں شامل ہیں جو کہ اس وقت ڈی پورٹ ہونے کی نہج پر کھڑے ہیں۔ اس کے علاوہ ان اسیران میں 16 نوجوان بھی شامل ہیں جو کہ یورپ جانے کی کوشش کررہے تھے۔
ان اسیران کو انتہائی کٹھن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیوںکہ وہ پیسوں اور دستاویزات کی عدم موجودگی کی وجہ سے مصر میں نہیں رہ سکتے ہیں اور شام میں جاری بحران کی وجہ سے وہاں بھی نہیں لوٹ سکتے ہیں۔
