قابض اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر سلفیت میں فلسطینیوں کے زیتون کے باغات میں لگے زیتون کے پھل دار 2300 درخت اکھاڑنے کی ایک نئی سازش تیار کی ہے۔ دوسری جانب مقامی فلسطینی شہریوں نے اپنے باغات کو بچانے کے لیے پوری قوت سے صہیونی جارحیت کے خلاف مزاحمت کی تیاریاں شروع کی ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کےمطابق صہیونی فوج نے سلفیت میں وادی قانا کے "دیراستیا” قصبے میں فلسطینیوں کے ملکیتی زیتون کے 2300 درخت اکھاڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ خفیہ طورپر اس منصوبے کی تیاری میں صہیونی دیہی کونسلیں بھی شامل ہیں۔
وادی قانون میں زیتون کے باغ کے ایک مالک یاسر ابو حجلہ نے "مرکزاطلاعات فلسطین” کو بتایا کہ صہیونی انتظامیہ نے زیتون کے 2300 درختوں کو سرخ سیاہی کے ساتھ نشان لگائے ہیں، جس کا مقصد ان درختوں کو بلڈوزروں کی مدد سےجڑوں سے اکھاڑ کران کےمالکان کو ان سے محروم کرنا ہے۔
ابو حجلہ سے جب پوچھا گیا کہ آیا صہیونی فوجی استیا کے مقام پر فلسطینیوں کے زیتون کے درخت اکھاڑنا کیوں چاہتے ہیں تو اس کا کہنا تھا کہ صہیونی حکام نے بہت پہلے یہ دھمکی دی تھی کہ اس علاقے میں باغات یہودی کالونیوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے سنگین خطرہ ہیں، فلسطینی خود ہی انہیں ختم کردیں ورنہ فوج کی مدد سے انہیں ختم کردیا جائے گا۔ ابو حجلہ نے بتایا کہ سلفیت کے تمام نمائندہ رہ نماؤں کے ذریعے صہیونی حکام کی جارحیت روکنے اور درختوں کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
