اسرائیلی عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعہ کی شام کو اسرائیلی لڑاکا طیاروں کی غزہ پر خوفناک بمباری کے بعد سے لگاتار چار روز تک جاری رہنے والی بمباری کے جواب میں فلسطینی مزاحمت کاروں نے بھی صہیونی علاقوں پر راکٹ حملوں کی بوچھاڑ کیے رکھی۔
اسرائیلی فوج کے مطابق ان چار دنوں میں غزہ سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر 222 راکٹ برسائے گئے۔
اسرائیلی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق غزہ سے داغے گئےدو سو سے زائد راکٹوں کی زد میں آ کر اگرچہ کوئی بڑا جانی اور مالی نقصان نہیں ہوا تاہم ان راکٹوں میں سے بعض ان جگہوں پر آ کر گرے جہاں اس سے قبل کبھی فلسطینی راکٹوں کی رسائی نہ ہوئی تھی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ فلسطینی مزاحمت کاروں کی راکٹوں کی استعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار میں بتایا گیا کہ نو مارچ تا بارہ مارچ چار روز کے دوران غزہ کے مزاحمت کاروں نے اسرائیلی اہداف پر کل 222 راکٹ برسائے جن میں سے 56 کو اسرائیلی اینٹی میزائل سسٹم ’’آئرن ڈوم‘‘ نےراستے میں ہی ناکارہ بنا دیا۔
صہیونی چیف آف جنرل سٹاف بینی گانٹس کا کہنا ہے کہ ہم نے جنوبی علاقوں میں ہونے والی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں اگر تو فلسطینی راکٹ حملے واقعی رک جاتے ہیں تو ہم امن کے بدلے پر امن رہیں گے ورنہ آگ کے بدلے آگ ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے غزہ میں تمام ضروری اہداف کو نشانہ بنایا اور آئندہ بھی ایسی کوششیں جاری رکھیں گے تاہم ہم اس حد تک نہیں جائیں گےکہ اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم نہ کر سکیں۔
خیال رہے کہ اسرائیل کی جانب سے جمعہ کی شام شروع ہونے والی بمباری کے سلسلے میں پیر کے روز تک 23 فلسطینی شہید جبکہ سیکڑوں زخمی ہو گئے تھے جس کے بعد منگل کے روز مصر نے اعلان کیا تھا کہ حماس اور اسرائیل نے پھر سے امن قائم کرنے پر سمجھوتہ کر لیا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

