اسرائیلی حکام نے فلسطینی شہرغزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے ایک طویل المدتی اسیر سہیل سعید الجدیلی کو اچانک رہا کردیا ہے۔39 سالہ سہیل سعید کو منگل کے روز رہا کیا گیا جس کے بعد وہ اچانک غزہ کے وسط میں
البریج مہاجر کیمپ میں اپنے گھر پہنچ گیا۔ سہیل سعید نے بائیس سال تک اسرائیلی جیل میں قید کاٹی اور صہیونی درندوں کے مظالم برداشت کیے۔
سہیل کو قابض فوج نے 26 ستمبر سنہ 1990ء کو البریج کیمپ سے حراست میں لیا تھا۔ اس وقت اس کی عمر محض سترہ سال تھی۔ سہیل پرالزام عائد کیا گیا کہ وہ یہودی فوجی‘‘آمنون’’ کے قتل میں کئی دیگر فلسطینیوں کے ساتھ ملوث ہے۔ اس یہودی فوجی کو پہلی تحریک انتفاضہ کے دوران قتل کردیا گیا تھا۔ سہیل کو اسرائیل کی ایک فوجی عدالت میں پیش کیا گیا جس نے اسے یہودی فوجی کے قتل میں معاونت پر کئی مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ اس کے بعد اسے مسلسل ایک سے دوسری جیل میں منتقل کیا جاتا اورتشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
رہائی کی اطلاع ملتے ہی فلسطینیوں کی بڑی تعداد مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کے درمیان ایریز گذرگاہ پراس کے استقبال کے لیے جمع ہوگئی تھی۔ سہیل کی اچانک رہائی پر اہل خانہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
