مقبوضہ بیت المقدس میں قدیم تعمیرات کے تحفظ کے ایک ادارے نے خبردار کیا ہے کہ شہر میں موجود ہیبرو یونیورسٹی نے فلسطینیوں سے چھینے گئےعلاقے فرینچ ہل پر 204 نئےرہائشی یونٹس تعمیر کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔
ان دنوں یہاں پر یونیورسٹی کے طلبہ کی رہائشی ہوسٹل موجود ہیں۔ نئے تعمیر کیے جانے والے رہائشی یونٹس صرف یہودیوں کوہی فروخت کیے جائیں گے، اس منصوبے کا مقصد فرینچ ہل کی جانب فلسطینیوں کی نقل مکانی کو روکنا ہے۔
مرکز برائے بحالی تعمیرات و منصوبہ بندی کے مطابق القدس کی نام نہاد صہیونی بلدیہ اس منصوبے پر پیر کے روز مباحثہ کرے گی، اور اس منصوبےکو منظور کرنے یا رد کرنے پر حتمی رائے دے گی۔
مرکز کے وکیل قیس یوسف ناصر نے اتوار کے روز منصوبے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس ہیکلی منصوبے میں یونیورسٹی کے طلبہ کے چار رہائشی یونٹس منہدم کر کے اس کی جگہ نو منزلہ چھ بلڈنگز تعمیر کی جائیں گی جن میں کل دو سوچار رہائشی یونٹس ہونگے۔
انہوں نے کہا کہ القدس کی اسرائیلی بلدیہ اس منصوبے پر گزشتہ برس بھی غور کر چکی ہے، ڈسٹرکٹ کونسل نے تعمیر کیے جانے والے پلازوں کی منزلیں نو کے بجائے بارہ کرنے کی تجویز بھی دے رکھی ہے تاہم کل اس منصوبے پر دوبارہ بحث ہو گی اور توقع ہے کہ اس کی حتمی منظوری بھی دے دی جائے گی۔
قیس یوسف ناصر نے خبردار کیا کہ اسرائیلی حکام کے اس منصوبے کا مقصد بھی شہر سے عربوں کا انخلاء ہے۔ اس منصوبے کے تحت کسی عرب شہری کوان رہائشی اپارٹمنٹس خریدنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ صہیونی حکام اس منصوبے کےذریعے فرینچ ہل پر یہودیوں کی اکثریت ثابت کرنا چاہتے ہیں۔

