رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی حکومت، فوج اور دیگر اداروں کے مظالم کے نتیجے میں 53 ہزار 998 طلباء وطالبات متاثر ہوئے جب کہ انسانی حقوق کی پامالیوں کے نتیجے میں 3 ہزار 840 فلسطینی معلمین اور معلمات کے حقوق غصب کیے گئے۔
تعلیمی شعبے میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے ضمن میں طلباء اور اساتذہ کی گرفتاریاں، احتجاجی ریلیوں کے دوران انہیں شہید اور زخمی کرنے، گھروں میں جبری نظربندی، ناکوں اور چیک پوسٹوں پرتلاشی کی آڑ میں ان کی گھنٹوں شناخت پریڈ، اسکول آنے والے بچوں اور اساتذہ کے لیے اسکولوں کے دروازے بند کرنا جیسے ظالمانہ اقدامات شامل ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی فوج کے حملوں میں 225 اسکولوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اسکولوں پر فائرنگ کی گئی، طلباء کو ربڑ کی گولیوں اور آنسوگیس کی شیلنگ سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ کئی طلباء زخمی ہوئے بلکہ اسکولوں کو بھی غیرمعمولی مادی نقصان پہنچا۔
صہیونی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں گذشتہ برس 22 طلباء اور اساتذہ شہید ہوئے۔ صہیونی حکام کی جانب سے تعلیمی شعبے سے وابستہ 265 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ ان میں 75 طلبا اور 30 اساتذہ شامل ہیں۔
ریاستی دہشت گردی اور پرتشدد کارروائیوں میں ایک سال کے دوران 774 طلباء 25 مرد اساتذہ ، 16 خواتین ٹیچر اوردو پرنسپل زخمی ہوئے۔ صہیونی فوج کی جانب سے فلسطین کے 57 تعلیمی ادارے اور اسکول زیرعتاب رہے جس کے نتیجے میں طلباء اور اساتذہ کو وہاں جانے سے منع کیا گیاْ۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے کھڑی کی گئی رکاوٹوں کے نتیجے میں 496 اساتذہ اور 505 طلباء طالبات اسکولوں میں بروقت پہنچنے میں ناکام رہے جب کہ مجموعی طورپر طلباء کی 1406 کلاسیں چھوٹ گئیں۔
