رپورٹ کے مطابق فلسطین میں یہودی آباد کاری کے امور پرنظر رکھنے والے تجزیہ نگار غسان دغلس نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کے جرام میں تمام صہیونی اداروں میں یکسانیت دکھائی دیتی ہے۔ پچھلے سال اسرائیل کے تمام ریاستی اداروں، پولیس، فوج، انٹیلی جنشیا، عدالتوں، پارلیمنٹ اور دیگر اداروں کی جانب سے فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کی سنگین پامالیاں کی گئیں۔
ایک سوال کے جواب میں غسان دغلس کا کہنا تھا کہ صہیونی فوج اور حکومت کے ہاتھوں فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ اپنے عروج کو پہنچ چکا ہے۔ پچھلے سال کے بارہ مہینوں کے تین سو ساٹھ ایام میں سیکڑوں بار فلسطینیوں کے بنیادی حقوق پامال کیے گئے۔
فلسطینی تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کے خلاف منظم ریاستی جرائم میں قابض صہیونی فورسز کے ساتھ ساتھ انتہا پسند یہودی آباد کار بھی پیش پیش رہے۔ پچھلے سال یہودی آباد کاروں نے بھی فلسطینیوں پر مظالم کی انتہا کردی تھی۔
اس کی سب سے بڑی مثال جولائی میں نابلس شہر کے دوما قصبے میں دوابشہ خاندان کو زندہ جلائے جانے کا واقعہ اپنی نوعیت کا بدترین واقعہ ہے جس میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کو زندہ جلا دیا گیا تھا۔ آگ میں زندہ جل جانے والے ایک شیر خوار بچے،اس کی والدہ اور والد شہید جب کہ ایک چارسال کا بچہ بری طرح جھلس گیا تھا۔
فلسطینی تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ صہیونی فوج کے ہاتھوں فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کی پامالی میں نہتے شہریوں پر طاقت کا وحشیانہ استعمال، مکانات کی مسماری، اندھا دھند گرفتاریاں اور جیلوں میں تشدد جیسے مکروہ حربے شامل ہیں۔ فلسطینیوں کی جانب سے اپنے خلاف ہونے حملوں پر اسرائیلی عدالتوں میں دائر شکایات پر کسی قسم کی کارروائی نہیں کی جاتی۔ فلسطینیوں کے قاتلوں اور جرائم پیشہ یہودیوں کو بے قصور قرار دے کر انہیں باعزت بری کیا جاتا ہے۔
فلسطین میں ایپلائیڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ ’’اریج‘‘ کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بھی سنہ 2015 ء کو فلسطینیوں کے لیے خونی سال قرار دیا ہے۔ اس رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ پچھلے سال فلسطینیوں کی جان ومال اور املاک پرحملوں کے نئے ریکارڈ قائم کیے گئے۔ فلسطینیوں کے خلاف نسل پرستانہ کارروائیوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوا۔ مقدس مقامات کی بے حرمتی عروج پر رہی اور یہودی فوج کی دہشت گردی نے بھی سابقہ ریکارڈ توڑ ڈالے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2015 ء میں انتہا پسند یہودیوں کے ہاتھوں فلسطینیوں پر 898 حملے کیے گئے، سنہ 2013 ء میں اس نوعیت کے حملوں کی تعداد 753 اور 2014 ء میں 764 حملے کیے گئے تھے۔ تشدد اور فلسطینیوں کے خلاف نفت پرمبنی حملوں میں قتل عمد کے واقعات بھی شامل ہیں۔ انتہا پسند یہودیوں کے ہاتھوں فلسطینیوں پر 275 جسمانی تشدد کے حملے درج کیے گئے، 231 بار املاک کی توڑپھوڑ اور لوٹ مار کی کارروائیاں کی گئیں جب کہ 265 مرتبہ مقدس مقامات کی بے حرمتی کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق پچھلے سال صہیونی فوجیوں نے زیتون کے پھل دار 13 ہزار 670 درخت کاٹ دیے۔ فلسطینیوں کی 482 املاک مسمار کی گئیں، 629 مسماری نوٹس جاری کیے گئے اور 3 ہزار 670 دونم[ دونم مساوی ایک ہزار مربع میٹر] کا رقبہ غصب کیا گیا۔ پچھلے سال کے دوران یہودی آباد کاری بھی اپنے عروج پر رہی اور غیرقانونی صہیونی تعمیرات کے بھی نئے ریکارڈ قائم ہوئے۔ سنہ 2015 ء میں سات ہزار 843 نئے مکانات کی تعمیر کی منظوری دی گئی اور ہزاروں یہودی آباد کاروں کو غرب اردن اور مقبوضہ بیت المقدس میں آباد کیا گیا۔
