فلسطین میں اسرائیلی فوج اور پولیس کے ہاتھوں عام فلسطینی شہریوں کے ساتھ ساتھ کم عمربچوں کی اندھا دھند گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق جنوری 2015ء کے دوران 400 فلسطینیوں کو حراست میںلے کروحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
انسانی حقوق کی تنظیم”عرب گروپ آف ڈویلپمنٹ اینڈ نیشنل ایمپاورمنٹ” کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوری میں روزانہ اوسطا 13 فلسطینی شہریوں کو حراست میں لیا جاتا رہا ہے۔
جنیوا میں قائم انسانی حقوق گروپ کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر گرفتاریاں غرب اردن اور بیت المقدس سے کی گئیں تاہم 15 فلسطینیوں کو غزہ کی پٹی سے بھی حراست میں لیا گیا۔ غزہ سے گرفتار کئے جانے والوں میں چار ماہی گیر اور چار دکاندار شامل ہیں۔
گرفتار کیے جانے والوں میں 57 بچے، 18 خواتین، صحافی اور دانشور بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گرفتار کیے گئے 100 فلسطینیوں کو انتظامی حراست کی سزائیں دی گئیں۔ جبکہ درجنوں فلسطینیوں کی انتظامی حراست میں توسیع کی گئی جس کے بعد انتظامی حراست میں ڈالے گئے فلسطینیوں کی تعداد 500 سے تجاوز کر گئی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
