اسرائیلی اخبار "ہارٹز” کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2013 ء میں دونوں بڑے خفیہ اداروں کے مجموعی بجٹ میں دس فی صد کا اضافہ ہوا جس کے بعد وہ دو ارب ڈالر کے قریب جا پہنچا۔
خیال رہے کہ اسرائیلی خفیہ ادارے موساد اور شن بیت براہ راست اسرائیلی وزیراعظم کے زیرانتظام کام کرتے ہیں مگر ان کے بجٹ کی منظوری وزارت دفاع دیتی ہے۔
اخبار مزید لکھتا ہے کہ اسرائیل کے خفیہ اداروں کے لیے مختص بجٹ کی تفصیلات بہت کم منظرعام پر آتی ہیں۔ خفیہ اداروں کے بجٹ کے استعمال کے بارے میں کوئی تحقیقات نہیں کی جاتیں اور نہ ہی اس کا کوئی ریکارڈ چیک کیا جاتا ہے۔ جب بھی یہ ادارے جتنی رقم کا تقاضا کرتے ہیں تو انہیں فراہم کردی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں اداروں کا مجموعی بجٹ بہت سے دوسرے شعبوں کے سالانہ بجٹ سے کئی گنا زیادہ ہے۔
