الاقصی اوقاف اور ورثہ فاؤنڈیشن نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ برس کے دوران یہودی آباکاروں، تنظیموں اور قابض سیکیورٹی فورسسز کے سرکاری یونیفارم میں اور سادہ کپڑوں میں خفیہ اہلکاروں کے مسجد اقصی پر حملوں میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گیارہ ہزار یہودی آبادکاروں نے فوجی معائنے کی آڑ میں باوردی مسجد اقصی پر حملے کئے جبکہ سن 2011ء کے دوران ایسے حملوں کی ناپاک جسارت کرنے والوں کی تعداد صرف پانچ ہزار تھی۔ نیز مسجد اقصی پر حملوں میں ایک تنوع دیکھنے میں آیا ہے۔ زیادہ تر چڑھائی یہودی عید کے موقع پر دیکھنے میں آئی ہے۔ ان مواقع پر یہودی آبادکار اور سرکاری عہدیدار علانیہ طور پر مسجد اقصی میں اپنے توراتی اور تلمودی شعائر عبادت ادا کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔
درایں اثناء مقبوضہ فلسطین میں اسلامی تحریک کے رہنما رائد صلاح نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ قابض حکام القدس کے خلاف عمومی جبکہ مسجد اقصی سے خصوصی عداوت رکھتے ہیں۔ ایسا کر کے اسرائیل مرحلہ وار نتائج حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ان میں مسجد اقصی پر اسرائیلی حملوں میں تیزی اور انہی کے جلو میں تلمودی عبادات کی ادائی تاکہ انہیں بنیاد بنا کر مسجد اقصی کو [نعوذ باللہ] مسجد ابراہیمی کی طرز پر دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
