فائونڈیشن کے وکیل جنہوں نے حال ہی میں اسیر حمزہ الکلوتی سے ملاقات کی ہے کہتے ہیں کہ 44 سالہ اسیر کی صحت دن بہ دن خراب ہوتی جارہی ہے اور ہرنیہ، دیکھنے میں دشواری اور جوڑوں میں اکڑائو کی وجہ سے وہ ہلنے جلنے سے بھی قاصر ہیں۔
وکیل نے مزید بتایا کہ جلبوع جیل کے جیلرز نے کلوتی کو بہت بھاری ادویات دے دی ہیں جو کہ عام طور پر کافی سنجیدہ حالت والے افراد کو فراہم کی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے ان کے گردے اور جگر متاثر ہورہے ہیں اور ان کو سانس لینے میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
کلوتی کو اسرائیلی فوجیوں نے سنہ 2001ء میں گرفتار کیا تھا اور حماس سے تعلق کے الزام میں چھ مرتبہ عمر قید کی سزاسنائی گئی۔
ایک اور واقعہ کے مطابق فلسطینی اسیر عماد اسفور اپنی قید کے 14 ویں سال میں داخل ہوگئے ہیں۔ اسیر اسفور کی حالت بھی دن بہ دن خراب ہوتی جارہی ہے اور وہ صحت کی نامناسب سہولیات ہونے کی وجہ سے انتہائی مشکل کا سامنا کررہے ہیں۔
ان کے خاندان نے اپیل کی ہے کہ ان کو جلد سے جلد رہا کردیا جائے تاکہ وہ اپنا مناسب علاج کروا سکیں۔
