مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی رکن قانون ساز کونسل مشیرالمصری نے بتایا کہ غرب اردن میں سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں، کارکنوں کا ہروقت تعاقب اور شہریوں سے اسلحہ سلب کرنا قومی جرم اور فلسطینی تحریک آزادی کچلنے کی کوشش ہے۔
مشیر المصری نے بتایا کہ پچھلے آٹھ سال کے دوران 12 ہزار 341 فلسطینیوں کو فلسطینی اتھارٹی کی جیلوں میں ڈالا گیا۔ پچھلے سال بننے والی قومی حکومت کے بعد سے اب تک 1347 فلسطینیوں کو سیاسی بنیادیوں پر جیلوں میں ڈالا گیا۔ ان میں ماہ صیام 261 سیاسی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا۔
مشیر المصری نے بتایا کہ غزہ کی پٹی میں سالانہ 612 ملین ڈالر اور ماہانہ 51 ملین ڈالر کے بھاری ٹیکس غزہ کی پٹی کے غریب عوام پر ڈالے گئے ہیں لیکن فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے انہیں کسی قسم کی سہولت مہیا نہیں کی گئی۔
المصری کا کہنا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی کو ماہانہ غزہ کی پٹی سے 30 ملین ڈالر کی رقم بجلی کی مد میں حاصل ہوتی۔ اگر یہی رقم غزہ میں فلاح وبہود کے کاموں پرصرف کی جائے تو کافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کا دعویٰ ہے کہ وہ ماہانہ غزہ کی پٹی میں بجلی کے منصوبوں اور پاور جنریٹروں کے لیے 100 ملین ڈالر ایندھن کی مد میں خرچ کررہی ہے۔ یہ سب فراڈ ہے۔ عملا اس رقم کا عشرعشیر بھی ادا نہیں کیا جاتا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
