دوسری جانب فلسطین کی مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے محمود عباس کے اس بیان کی سخت مخالف کی ہے۔ عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2005 ء میں رفح گذرگاہ کے حوالے سے جو سہ فریقی معاہدہ طے پایا تھا وہ فلسطینیوں پر ظلم کی بدترین شکل تھی۔ فلسطینیوں نے اس وقت بھی اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ معاہدے میں رفح گذرگاہ پر بھی اسرائیل کا سیکیورٹی کنٹرول تسلیم کیا گیا ہے جبکہ اس کی قطعی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔ یہ گذرگاہ صرف فلسطین اور مصر کے درمیان ہے اور اس کا مشترکہ کنٹرول انہی دو ملکوں کے سیکیورٹی اداروں کے پاس ہونا چاہیے۔ اسرائیل کا اس گذرگاہ سے کیا تعلق ہے۔
خیال رہے کہ سنہ 2005 ء میں مصر، فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کےدرمیان طے پائے معاہدے کے تحت سنہ 2007 ء تک رفح کراسنگ پوائنٹ کا کنٹرول ان تینوں حکومتوں سے سیکیورٹی اداروں کے پاس رہا ہے۔ سنہ 2007 ء میں غزہ کی پٹی میں حماس کی حکومت کے قیام کے بعد اسرائیلی فوج نے رفح کا کنٹرول چھوڑ دیا تھا۔ محمود عباس ایک مرتبہ پھر دوبارہ اسی فرسودہ معاہدے کو فعال کرنا چاہتے ہیں۔
