رپورٹ کے مطابق فلسطین میں بچوں کے قومی دن کی مناسبت سے وزارت اطلاعات ونشریات کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ 16 سال میں اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 2070 فلسطینی بچے شہید اور 28 ستمبر 2000 ء سے مارچ 2016 ء کے آخر تک 13 ہزار فلسطینی بچے زخمی ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ سولہ برسوں میں صہیونی فورسز نے کریک ڈاؤن کے دوران 12 ہزار فلسطینی بچوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں تعذیب وتشدد کا نشانہ بنایا۔ ان میں 480 بچے اس وقت بھی اسرائیلی زندانوں میں پابند سلاسل ہیں۔ دوران حراست بچوں سے اقبالی بیانات کے حصول کے لیے تشدد کے ہولناک ہتھکنڈے بھی استعمال کئے گئے اور ایک اندازے کے مطابق گرفتار ہونے والے 95 فی صد بچوں کو اذیتیں دی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق مختلف حیلوں بہانوں سے سالانہ 700 بچوں کو گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ حراست میں لیے جانے والے بچوں میں آٹھ اور دس سال کے کم عمر بچے اور اسکول کی ابتدائی جماعتوں میں زیرتعلیم نونہالوں کو بھی اذیتیں دی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق 10 سے 17 سال کی عمر کے 4.1 فی صد بچے اسکول نہیں جاتے بلکہ غربت کے باعث محنت مزدوری پرمجبور ہیں۔ حالیہ اعدادو شمار کے مطابق 1 لاکھ 2 ہزار فلسطینی بچے محنت مزدوری کرتے ہیں جب کہ سنہ 2011 ء میں یہ تعداد 65 ہزار تھی۔
