فلسطین میں قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے نہتے فلسطینیوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق رواں سال جنوری اور فروری کے دو مہینوں میں صہیونی فوجیوں نے مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل سے دو سو فلسطینیوں کو حراست میں لے کر جیل میں ڈال دیا۔
فلسطین میں اسیران کے امورکی نگرانی کرنے والے ادارے”کلب برائے اسیران فلسطین” کے ڈائریکٹر امجد النجار نے مرکز اطلاعات فلسطین کو بتایا کہ صہیونی فوجیوں نے رواں سال کے پہلے دو ماہ میں اوسطا ہر ماہ ایک سو افراد کو حراست میں لیا ہے۔ جنوری میں اٹھانوے افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ فروری میں ایک سو چار افراد کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ محروسین میں تین خواتین اور ایک درجن اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچے بھی شامل ہیں۔
انسانی حقوق کے مندوب نے عینی شاہدین اور متاثرین کے حوالے سے بتایا کہ قابض فوج کے اسپیشل دستے راتوں کے اوقات میں فلسطینیوں کے گھروں میں چھاپے مارتے۔ شہریوں گرفتار کر کے انہیں تشدد کا نشانہ بناتے،خواتین اور بچوں کو زد و کوب کرتے، گھروں میں موجود قیمتی اشیاء کی توڑ پھوڑ کرتے رہے ہیں۔
گرفتاریوں اور پکڑ دھکڑ کی ان ظالمانہ مہمات کے دوران عام شہریوں کےعلاوہ زخمیوں، معذوروں اور مریضوں کو بھی نہیں بخشا گیا، جو سامنے آیا اسے اٹھایا اور جیلوں میں ڈال دیا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

