فلسطینی اسیران کلب کے مطابق ھشاروں جیل میں قید القدس کی دیما سواحرہ اور الخلیل کی ھالہ ابو سل کا شمار انتہائی کم عمر قیدیوں میں ہوتا ہے۔
کلب نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ القدس کے حالیہ واقعات کے تناظر میں قابض فوج کی جانب سے چھوٹے بچوں کی گرفتاری کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ دسیوں فلسطینی بچوں کو بلا جواز گرفتار کیا جا چکا ہے۔
قانون کے جائزے سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ القدس میں کم عمر بچوں کی گرفتاری کا حجم سب سے زیادہ ہے۔ ہر روز تقریبا دو فلسطینی بچوں کو حراست میں لیا جا رہا ہے۔ اس سے بڑی تعداد ان بچوں کی ہے جنہیں وقتی طور پر پوچھ تاچھ کی غرض سے گھنٹوں تھانوں میں روکا جاتا ہے۔
الخلیل گورنری اپنے 70 بچوں کی گرفتاری کی وجہ سے دوسرے نمبر پر ہے۔ ان بچوں کو القدس کی سرحد سے ملنے والے علاقوں سے گرفتار کیا جاتا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
