یہودی آباد کاری پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار خلیل تفکجی نے ”مرکزاطلاعات فلسطین” کے نمائندے کو بتایا کہ اسرائیل کے اس منصوبے 322 کے مطابق آباد کی جانے والی بستی کا نام ”روتم” ہے ، یہ وادی اردن کے گھاٹیوں 194،195اور 196پر بنائی جائے گی۔ اس منصوبے پر عمل کے لیے یہاں پر آباد بدووں اور دیگر فلسطینی شہریوں کو بتدریج اور منظم انداز میں ہجرت پر مجبور کردیا جائے گا۔ فلسطینیوں کے گھروں کو گرانے، ان کے خیموں کو اکھاڑنے کے علاوہ ان کے جانوروں پر بھی قبضہ کرلیا جائے گا۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کیے گئے اعلان کی دوسری شق کے مطابق اس علاقے کو ممنوعہ فوجی علاقہ قرار دیا جائے گا۔ اس ضمن میں یہاں پر فوجی تربیتی مشقیں کی جائیں گی اور یہاں پر یہودی بستیوں کی کمیٹیاں بنائی جائیں گی۔ اس طرح اس اراضی کو یہودی قومی تحویل میں لینے کے بعد یہودی بستیوں کے قائدین اس علاقے میں سرگرم یہودی آباد کاری کی تحریک کے حوالے کردیا جائے گا۔
خلیل تفکجی نے بتایا کہ پچاس ایک اراضی پر ”روٹم” یہودی بستی بسانے کامنصوبہ سن 1984 میں بنایا گیا تھا۔ یہ آبادی بھی دیگر متعدد یہودی بستیوں میں سے ایک تھی۔ خلیل تفکجی نے بتایا کہ تعمیر کی جانے والی اس بستی میں اسرائیلی فوجی اہلکار اور دیگر عہدیداران کو رہائش دی جائے گی بالخصوص قتال کرنے والے یونٹ اورداخلی اورخارجی انٹیلی جنس ایجنسی کے اہلکاروںکو اس بستی میں مکانات دیے جائیں گے۔
وادی اردن یا الغور کا یہ علاقہ چار سو مربع کلومیٹر پرمشتمل ہے۔ یہاں 47ہزار فلسطینی قیام پذیر ہیں، اس طرح یہ مغربی کنارے کی کل فلسطینی آباد کا دو فیصد بنتا ہے۔ اس علاقے کی سرحدیں اردن سے ملتی ہیں۔ اسرائیل نے سن 1967میں اس علاقے پر مکمل قبضہ کرلیا تھا اور اسی وقت سے وہ اس علاقے کو اسرائیل کی مشرقی سرحد مانتا ہے۔
اس وقت سے اب تک اسرائیل نے اس علاقے میں 26 یہودی بستیاں بسا لی ہیں جہاں ساڑھے ساتھ ہزار یہودی آباد ہیں۔ سن 2005سے اسرائیل نے اس علاقے میں فلسطینیوں کے گرد گھیرا تنگ کر رکھا ہے۔ اسرائیلی فوج مختلف حیلے بہانوں سے یہاں پر رہنے والے فلسطینیوں کو ہجرت پر مجبور کرتی چلی آرہی ہے۔ اس اسرائیلی پالیسی کا مقصد اس علاقے کو نسلی امتیاز کی مظہر فاصل دیوار کے ذریعے سے اسرائیل میں داخل کرنا بھی تھا۔ اسرائیلی فوج نے گزشتہ کچھ سالوں کے دوران اس علاقے میں بڑے پیمانے پر کراسنگ اور چیک پوسٹیں قائم کرلی ہیں اور یہ علاقہ فوجی چھاونی کا منظر پیش کر رہا ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
