ماہ صیام کی ستائیسویں شب کے لیے "البیارق” فائونڈیشن کی جانب سے 200 بسوں کی خدمات فراہم کی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ فلسطینی محکمہ اوقاف کی جانب سے مسجد اقصیٰ میں 20 ہزار معتکفین کی افطاری اورسحری کا انتظام کیا گیا تھا۔ فلسطینی محکمہ اوقاف کے علاوہ کئی دوسرے اداروں کی جانب سے بھی ہزاروں روزہ داروں کی افطاری اور سحری کرائی گئی۔
البیارق فائونڈیشن کے چیئرمین احمد حامد نے بتایا کہ لیلۃ القدر کے موقع پر فلسطینیوں کو قبلہ اول تک لانے کے لیے 200 بسیں چلائی گئیں۔ یہ بسیں نہ صرف بیت المقدس کے شہریوں کو قبلہ اول میں لاتی رہیں بلکہ مغربی کنارے اور شمالی فلسطین کےعلاقوں سے بھی روزہ داروں کو ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرتی رہیں۔
احمد حامد نے بتایا کہ پچھلے برسوں کی نسبت رواں سال فلسطینیوں کی قبلہ اول میں آنے والوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ رواں ماہ صیام کے آغاز سے اب تک نماز فجر، ظہر، جمعہ او تراویح کے لیے نمازیوں کو لانے کے لیے 800 بسیں چلائی گئیں۔
دوسری جانب اقصیٰ فائونڈیشن نے مسجد اقصیٰ کےنمازیوں اور معتکفین کے لیے 15 ہزار افطار کا انتظام کیا گیا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
