اسرائیلی عدالت نے بدھ کی شام یہودی بستی کے لیے مجوزہ مقام پر فلسطینی خیمہ بستی ”باب الشمس” میں احتجاج کرنے کی پاداش میں گرفتار کیے گئے بیس افراد کی رہائی کا حکم دے دیا ہے۔
یہ افراد اسرائیل کی جانب سے خیمہ بستی کو اکھاڑے جانے کیخلاف اس بستی کی جانب سے جاتے ہوئے گرفتار کیے گئے تھے۔
گرفتار کیے جانے والوں کی تعداد بیس تھی، ان افراد کا مقدمہ صلح اور عوفر کی دو عدالتوں میں پیش کیا گیا، عدالت نے پندرہ افراد کو ایک ہزار شیکل اور ایک ماہ کی باب الشمس گاؤں سے بے دخلی کی سزا کے بدلے جبکہ پانچ کو بغیر کسی جرمانے کے رہا کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔
گرفتار شدگان کے وکیل بسام بحر نے بتایا کہ گرفتار ہونے والوں میں محمد زیدات، سلام عدوی، عبیدہ خطیب، محمود جماعات، احمد براھمہ، ادھم ربیع، شرف ریان، برکات ضراغمہ، احمد مصطفی، احمد حجازی، ندیم ابو ھلال، سفیان دار عجاج، ربحی رحمہ، وعید خطیب، عبادہ شلھوب، محمد الخطیب، عصام عبد الرحمن بکر، معن ضراغمہ، رمزی فرعون اورایک غیر ملکی رضا کار خاتون نیٹا جولان شامل ہیں۔
اطلاعات کے مطابق فلسطینی وزارت برائے امور اسیران نے اعلان کیا ہے کہ گرفتار شدگان کی رہائی کے لیے مالی جرمانہ وہ ادا کریگی۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
