اسرائیل کے عبرانی اخبار”یدیعوت احرونوت” کی جانب سے جاری شدہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ کنیسٹ [پارلیمنٹ]نے ایک متنازعہ قانون کی منظوری دے دی ہے۔ اس قانون کی رو سے اسرائیلی فوجیوں، یہودی آباد کاروں اور ان کی گاڑیوں پر قصدا سنگ باری کرنے والے کو 20 سال قید اور غیرارادی طورپر سنگ باری کےملزم کو 10 سال قید بامشقت کی سزا ہوگی۔
خیال رہے کہ اسرائیلی کنیسٹ میں یہ متنازعہ قانون عراقی نژاد انتہا پسند خاتون وزیرانصاف "آئلیٹ شاکیڈ” کی جانب سے حال ہی میں پیش کیا گیا تھا۔ اس قانون کا مقصد مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں یہودی فوجیوں پر احتجاجی مظاہروں کے دوران سنگ باری کرنے والے فلسطینیوں کو سنگین ترین سزا دینا تھا۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی کنیسٹ کی جانب سے منظور کردہ قانون کو عالمی قوانین اور بین الاقوامی اخلاقی ضابطوں کی کھلی خلاف ورزی قراردیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم "مرکزاحرار” کے مندوب فواد الخفش کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کو سنگ باری کے جرم میں بیس سال قید کی سزا کا قانون منظور ہونا اسرائیل کی انتہاپسندی کا کھلا ثبوت ہے۔ یہ قانون نہیں بلکہ ایک "جنونی” فیصلہ ہے جو صرف فاتر العقل، جنونی اور انتہا پسندوں کی کارستانی اور ان کی غیرانسانی سوچ کا مظہر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی کنیسٹ سے فلسطینیوں کی طف سے پتھر پھینکنے پراتنی کڑی سزا کی منظوری کوئی انہونی اور چنھبے کی بات ہرگزنہیں کیونکہ اس طرح کی انتہا پسندی صہیونی ریاست کی تاریخ کا مکروہ چہرہ ہے جو بار بار مختلف مواقع پر دیکھنے کو ملتا ہے۔ فلسطینیوں کے خلاف منظم ریاستی دہشت گردی کے مرتکب صہیونیوں کی جانب سے اس سے کم کسی سزا کی توقع نہیں کی جاسکتی ہے۔
خیال رہے کہ فلسطین میں قابض صہیونی فوج کی منظم ریاستی دہشت گردی کے خلاف فلسطینی شہریوں کی جانب سے جوابی کارروائی کے طورپر عموما پتھرائو کیا جاتا رہا ہے۔ نہتے فلسطینیوں کے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ بھی نہیں ہے۔ اس قانون کی منظوری سے اسرائیل نے فلسطینیوں کو مزید مشکلات سے دوچار کرنے اور صہیونی فوج کو ان کے خلاف کھل کھیلنے کا نیا موقع فراہم کردیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
